انوارالعلوم (جلد 2) — Page 160
انوار العلوم جلد ۲ برکات خلافت السلام فرماتے کہ جب اس کو خوشی حاصل ہو گی تو موٹا ہو جائے گا اور مثال کے طور پر خواجہ صاحب کا ذکر فرماتے کہ وکالت کے امتحان کے پاس کرنے سے پہلے یہ بھی دبلے ہوتے تھے جب سنا کہ وکالت پاس کر لی ہے تو چند دنوں میں ہی موٹے ہو گئے۔ تو اگر مجھے خلافت ایک حکومت مل گئی ہے اور اس کے لینے میں میری خوشی تھی تو چاہئے تھا کہ میں موٹا اور تندرست ہوتا جاتا لیکن میرے پاس بیٹھنے والے اور پاس رہنے والے جانتے ہیں کہ مجھ پر کیسے کیسے سخت دن آتے ہیں اور اپنی تکلیف کو میں ہی جانتا ہوں۔ خلافت کا مسئلہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے۔ میں نے ۱۲ / اپریل ۱۹۱۴ء کو جو تقریر کی 1 مسئلہ خلافت تھی یہ تقریر منصب خلافت کے : ، خلافت کے نام سے چھپ چکی ہے ) اس میں قرآن شریف کی ایک آیت سے میں نے بتایا تھا کہ خلیفہ کا کیا کام ہوتا ہے۔ خلیفہ کے معنی ہیں کسی کے پیچھے آکر وہی کام کرنے والا جو اس سے پہلا کیا کرتا تھا۔ اس کی پہچان کے لئے جس کا کوئی خلیفہ ہو گا اس کے اصل کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کیا کام کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ا کا کام یہ بتایا ہے ۔ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ ( آل عمران : (۱۵) یعنی یہ کہ ( ۱ ) خدا کی آیات لوگوں پر پڑھے ۔ ( ۲ ) ان کا تزکیہ نفس کرے ( ۳ ) انہیں کتاب سکھائے ( ۴ ) ان کو حکمت سکھائے۔ میں نے یہ بھی اس تقریر میں بتایا تھا کہ یہ چاروں کام نبی کے دنیا کی کوئی انجمن نہیں کر سکتی۔ یہ وہی شخص کر سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی کے بعد مقرر کیا جاتا ہے اور جسے خلیفہ کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر یہ باتیں نہیں ذکر کی جاتیں۔ ہاں چند موٹے موٹے اعتراضات مین بیان کر کے ان کے جواب دیتا ہوں اور یہ بھی بتاتا ہوں کہ کیوں میں نے دلیری اور استقلال کو ہاتھ سے نہ دیا اور اپنی بات پر مضبوط جما رہا۔ بعض لوگ میری نسبت یہ کہتے ہیں کہ اس نے کیوں وسعت حوصلہ سے کام لے کر یہ نہ کہہ دیا۔ کہ میں خلیفہ نہیں بنتا۔ ایسا کہنے والا سمجھتا ہے کہ خلافت بڑے آرام اور راحت کی چیز ہے مگر اس احمق کو یہ معلوم نہیں کہ خلافت میں جسمانی اور دنیاوی کسی قسم کا سکھ نہیں ہے۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ کیوں میں نے جرات اور دلیری سے کام لے کر اس بار کو اٹھایا اور وہ کیا چیز تھی جس نے مجھے قوم کے دو ٹکڑے ہوتے دیکھ کر ایک جگہ پر قائم رہنے دیا اور وہ کونسا ہاتھ تھا جس نے مجھے ایک جگہ کھڑا کئے رکھا۔ اس وقت تو چاروں طرف کے لوگ موجود ہیں لیکن ایک وہ وقت تھا کہ بہت قلیل حصہ جماعت کا بیعت میں شامل ہوا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت جماعت کے اتحاد کی خاطر میں