انوارالعلوم (جلد 2) — Page 159
انوار العلوم جلد ؟ ۱۵۹ برکات خلافت میں گھبرا گیا اور واپس لوٹنے کا ارادہ کیا جب میں نے لوٹنے کے لئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پچھلی طرف میں نے دیکھا کہ پہاڑ ایک دیوار کی طرح کھڑا ہے اور لوٹنے کی کوئی صورت نہیں اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے مجھے بتایا ہے کہ اب تم آگے ہی آگے چل سکتے ہو پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ میں نے اس بات پر غور کیا ہے کہ نبی پر چالیس سال کے بعد نبوت کیوں نازل نکتہ معرفت ہوتی ہے ؟ اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ چالیس سال کے بعد تھوڑے سال ہی انسان کی زندگی ہوتی ہے اس لئے ان میں مشکلات کو برداشت کر کے نہیں گزارہ کر لیتا ہے۔ لیکن اگر جوانی میں ہی اسے نبوت مل جائے تو بہت مشکل پڑے اور اتنے سال زندگی کے بسر کرنے نہایت دشوار ہو جائیں کیونکہ یہ کام کوئی آسان نہیں ہے۔ دیکھنے میں آگ کا انگارہ بڑا خوشنما معلوم ہوتا ہے مگر اس کی حقیقت وہی جانتا خلافت کی اہمیت ہے جس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اسی طرح خلافت بھی دوسروں کو بڑی خوبصورت چیز معلوم ہوتی ہے اور نادان دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ خلیفہ بننے والے کو بڑا مزا ہو گیا ہے لیکن انہیں کیا معلوم ہے کہ جو چیز ان کی آنکھوں میں بڑی خوبصورت نظر آتی ہے دراصل ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ اور اللہ تعالی کے فضل و کرم کے بغیر کسی کی طاقت ہی نہیں کہ اسے اٹھا سکے خلیفہ اس کو کہتے ہیں کہ جو ایک پہلے شخص کا کام کرے۔ اور خلیفہ جس کا قائم مقام ہوتا ہے اس کی نسبت اللہ تعالی نے فرمایا وَ وَ ضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِى اَنْقَضَ ظَهْرُكَ (الم نشرح : ۳) کہ ہم نے تیرا وہ بوجھ جس نے تیری کمر توڑ دی تھی اتار دیا ہے۔ تو جب اللہ تعالی فرماتا ہے کہ آنحضرت ا کی پیٹھ اس بوجھ سے ٹوٹے کے قریب تھی تو اور کون ہے جو یہ بار اٹھا کر سلامت رہ سکے۔ لیکن وہی خدا جس نے آنحضرت ﷺ کے بوجھ کو ہلکا کیا تھا اور اس زمانہ میں بھی اپنے دین کی اشاعت کے لئے اس نے ایک شخص کو اس بوجھ کے اٹھانے کی توفیق دی وہی اس نبی کے بعد اس کے دین کو پھیلانے والوں کی کمریں مضبوط کرتا ہے۔ میری طبیعت پہلے بھی بیمار رہتی تھی مگر تم نے دیکھا کہ میں اس دن کے بعد کسی کسی دن ہی تندرست رہا ہوں۔ اور کم ہی دن مجھ پر صحت کے گزرے ہیں۔ اگر مجھے خلافت کے لینے کی خوشی تھی اور میں اس کی امید لگائے بیٹھا تھا تو چاہئے تھا کہ اس دن سے میں تندرست اور موٹا ہوتا جاتا۔ اگر منکر ان خلافت کے خیال کے مطابق چھ سال میں اس کے حاصل کرنے کی کوشش میں رہا ہوں تو اب جبکہ یہ حاصل ہو گئی ہے تو مجھے خوشی سے موٹا ہونا چاہئے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بچپن میں کبھی والدہ صاحبہ مجھے پتلا دبلاد دیکھ کر گھبراتیں تو حضرت مسیح موعود علیہ