انوارالعلوم (جلد 2) — Page 158
انوار العلوم جلد ۲ ۱۵۸ برکات خلافت ختم بھی ہو گی یا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ پہلے جو باتیں تم خلافت کے متعلق سن چکے ہو وہ تو تمہیں ان لوگوں نے سنائی ہیں جو رہرو کی طرح ایک واقعہ کو دیکھنے والے تھے۔ دیکھو! ایک بیمار کی حالت اس کا تیمار دار بھی بیان کرتا ہے مگر بیمار جو اپنی حالت بیان کرتا ہے وہ اور ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح دوسرے لوگوں نے اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق تمہیں باتیں سنائی ہیں مگر میں جو کچھ تمہیں سناؤں گاوہ آپ بیتی ہو گی جگ بیتی نہیں ہو گی۔ دوسرے کے درد اور تکلیف کو خواہ کوئی کتناہی بیان کرے لیکن اس حالت کا وہ کہاں اندازہ لگا سکتا ہے جو مریض خود جانتا ہے اس لئے جو کچھ مجھ پر گزرا ہے اسکو میں ہی اچھی طرح سے بیان کر سکتا ہوں۔ دیکھنے والوں کو تو یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہو گی کہ کئی لاکھ کی جماعت پر حکومت مل گئی۔ مگر خدارا غور کرو کیا تمہاری آزادی میں پہلے کی نسبت کچھ فرق پڑ گیا ہے۔ کیا کوئی تم سے غلامی کرواتا ہے یا تم پر حکومت کرتا ہے یا تم سے ماتحتوں غلاموں اور قیدیوں کی طرح سلوک کرتا ہے۔ کیا تم میں اور ان میں جنہوں نے خلافت سے روگردانی کی ہے کوئی فرق ہے۔ کوئی بھی فرق نہیں۔ لیکن نہیں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ تمہارے لئے ایک شخص تمہار اور درکھنے والا تمہاری محبت رکھنے والا تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے مگر ان کے لئے نہیں ہے۔ تمہارا اسے فکر ہے اور دہے اور وہ تمہارے لئے اپنے موٹی کے حضور تڑپتا رہتا ہے لیکن ان کے لئے ایسا کوئی نہیں ہے۔ کسی کا اگر ایک بیمار ہو تو اس کو چین نہیں آتا۔ لیکن کیا تم ایسے انسان کی حالت کا اندازہ کر سکتے ہو جس کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیمار ہوں۔ پس تمہاری آزادی میں تو کوئی فرق نہیں آیا ہاں تمہارے لئے ایک تم جیسے ہی آزاد پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہو گئی ہیں۔ سنا جاتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مجھے حکومت کی خواہش تھی اس لئے جماعت میں تفرقہ ڈال کر لوگوں سے بیعت لے لی ہے۔ لیکن بیعت لینے کے وقت کی حالت میں تمہیں بتاتا ہوں۔ جس وقت بیعت ہو چکی تو میرے قدم ڈگمگا گئے اور میں نے اپنے اوپر ایک بہت بڑا بوجھ محسوس کیا۔ اس وقت مجھے خیال آیا کہ آیا اب کوئی ایسا طریق بھی ہے کہ میں اس بات سے لوٹ سکوں۔ میں نے بہت غور کی اور بہت سوچا لیکن کوئی طرز مجھے معلوم نہ ہوئی۔ اس کے بعد بھی کئی دن میں اسی فکر میں رہا تو خدا تعالٰی نے مجھے رویا میں بتایا کہ میں ایک پہاڑی پر چل رہا ہوں دشوار گزار راستہ دیکھ کر