انوارالعلوم (جلد 2) — Page xvii
انوار العلوم جلد ۲ ۱۰ تعارف کتب حکومت نے یہ کہہ کر اس میں دخل دینے سے انکار کر دیا کہ ہم مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ جب پے در پے اس قسم کی زبانی اور تحریری خبریں حضرت فضل عمر کی خدمت میں پہنچیں تو حضور نے یہ اشتہار شائع فرمایا اور غیر مبالعین کے جھوٹ کی قلعی کھول دی اور چیلنج دیا کہ : "اگر میرے مخالفین میں کچھ بھی شرم و حیا ہے تو وہ مرد میدان بنیں اور اپنے بیان کو شائع کریں اور اس کا ثبوت دیں تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ کون حق پر ہے اور کس کی بنیاد جھوٹ پر ہے"۔ (۱۰) حقيقة النبوة حضرت خلیفة المسیح الثانی نے خواجہ کمال الدین صاحب کے لیکچر ” اندرونی اختلافات سلسلہ کے اسباب کے جواب میں اپنا واضح اور مدلل موقف اور اعتقاد "القول الفصل " نامی کتاب میں تحریر فرمایا اس پر مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبالعین نے ایک رسالہ "القول الفصل کی ایک غلطی کا اظهار " شائع کیا جس کے جواب میں حضرت مصلح موعود نے معركة الآراء كتار كتاب تصنیف فرمائی جو ۳۔ مارچ ۱۹۱۵ء کو شائع ہوئی۔ حضور نے اس کتاب کو تین فصلوں میں تقسیم فرمایا : تاب "حقيقة النبوة " فصل اول میں آپ نے مولوی محمد علی صاحب کے اس سوال کا جواب تحریر فرمایا کہ آیا حضرت مسیح موعود کے دعوئی پر دو زمانے آئے ہیں یا ہمیشہ آپ اپنی نبوت کو ایک ہی قسم کی خیال کرتے رہے ؟ اس سوال کا جواب آپ نے حضرت مسیح موعود ہی کی تحریرات سے عطا فرمایا اور اس بات کو واضح کیا کہ حضرت مسیح موعود کے دعوی پر دو زمانے آئے ہیں جیسا کہ فصل دوم کے شروع میں آپ نے فرمایا : فصل اول میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ثابت کیا ہے۔ کہ اس عقیدہ (نبوت) میں ۱۹۰۰ء کے بعد تبدیلی ہوتی ہے۔ اور سب سے آخری کتاب جس میں پہلے عقیدہ کا اظہار کیا گیا تھا تریاق القلوب" رب" ہے جو ۱۸۹۹ء کی ہے اور بعض مواقعات کی وجہ موانعات کی وجہ سے ۱۹۰۲ء میں شائع ہو سکی۔ پس مسئلہ نبوت کے متعلق جب بحث ہو تو ہمیں ان تحریرات کو اصل قرار دینا "