انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 150

انوار العلوم جلد ۲ ۱۵۰ جماعت احمد یہ (الرحمن: ۶۱) اشتهار جلسه شکریہ جشن جو ہلی ۔ شعرت سالہ حضرت قیصرہ ہند سے خون ۱۸۹۷ ) اسی طرح سلطان روم کے خلیفہ المسلمین کہلانے اور پھر دین سے غافل ہونے کی نسبت فرماتے ہیں " آج بھی اگر کسی انسان میں فراست موجود ہے تو دیکھ سکتا ہے کہ کیا اسلام کی حالت اس خطرناک حالت تک پہنچی ہے یا کہ نہیں جس وقت خدا اس کی خبر گیری کرے زمانہ خود پکار پکار کر زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ مصلح کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ معمولی مسلمان تو کسی شمار میں ہی نہیں۔ جو لوگ مسلمان کہلاتے ہیں اور خلیفہ المسلمین امیر المومنین ہیں خود ان کا حال ایسا ہے کہ باوجود بادشاہ ہونے کے ان کو اتنی جرات نہیں کہ ان کی سلطنت میں کوئی شخص جرأت اور آزادی سے اظہار حق بھی کر سکے سلطان روم کی سلطنت میں کوئی چار سطر بھی مذہب عیسوی کے خلاف نہیں لکھ سکتا۔ شاید یہ خیال ہو گا کہ تمام عیسائی سلطنتیں ناراض ہو کر سلطنت چھین لیں گی۔ مگر خدا کی سلطنت کا ذرا بھی خیال نہیں اور نہ ہی خدا کی طاقت پر پورا بھروسہ ९९ ہے۔ خود داری بھی ایک حد تک اچھی ہوتی ہے۔ مگر جہاں ایمان جائے وہاں ایسی باتوں کا کیا خیال ۔ “ " حالانکہ ہمارا تجربہ بتلاتا ہے کہ گورنمنٹ کو مذہب سے تعلق ہی کوئی نہیں۔ دیکھو ہم نے عیسائیوں کے خلاف کتنی کتابیں لکھی ہیں۔ اور کسی طرح زور سے ان کے عقائد باطلہ کا رد کیا ہے۔ مگر گورنمنٹ میں یہ بڑی خوبی ہے کہ کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اصل وجہ اپنی ہی کمزوری ہوتی ہے۔ ورنہ گورنمنٹ دین کے معاملات میں کبھی بھی دست اندازی نہیں کرتی ۔ (اقتباس از تقریر بر مقام لاہور) te آگے چل کر سلطان روم کے محافظ حرمین شریفین ہونے کے خیال کو غلط قرار دیتے ہوئے انگریزی گورنمنٹ کی یوں تعریف فرماتے ہیں۔ ” بادشاہ اور خلیفہ المسلمین اور امیر المؤمنین کہلا کر بھی خدا کی طرف سے بے پرواہی اچھی بات نہیں۔ مخلوق سے اتا ر نا کہ گویا خدا کو قادر ہی نہیں سمجھنا۔ یہ ایک قسم کی سخت کمزوری ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ خادم الحرمین ہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ حرمین اس کی حافظ ہیں۔ حرمین کی برکت اور طفیل ہے کہ اب تک وہ بچا ہوا ہے۔ جو مذہبی آزادی اس ملک میں ہمیں نصیب ہے وہ مسلمان ممالک میں خود مسلمانوں کو بھی نصیب نہیں دیکھو کس آزادی سے ہم کام کر رہے ہیں۔ اور پھر کیسا اثر ہماری تالیفات کا ملک پر ہوا ہے۔ قادیان میں ہمیشہ پادری لوگ آیا کرتے تھے۔ ان کے خیمے ہمیشہ قادیان کے باہر کی طرف نصب کئے جاتے تھے ۔ اور وہ پھر کر اپنا وعظ کیا کرتے تھے۔ مگر اب عرصہ پندرہ برس کا ہوتا ہے کہ کبھی کسی پادری کی شکل بھی نظر