انوارالعلوم (جلد 2) — Page 150
۱۵۰ (الرحمٰن:۶۱)۔(اشتہار جلسہ شکریہ جشن جوبلی۔شعست سالہ حضرت قیصرہ ہند ، ۷ جون ،۱۸۹۷ء ) اسی طرح سلطانِ روم کے خلیفة المسلمین کہلانے اور پھر دین سے غافل ہونے کی نسبت فرماتے ہیں’’ آج بھی اگر کسی انسان میں فراست موجود ہے تو دیکھ سکتا ہے کہ کیا اسلام کی حالت اس خطرناک حالت تک پہنچی ہے یا کہ نہیں جس وقت خدا اس کی خبر گیری کرے زمانہ خود پکار پکار کر زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ مصلح کی ضرورت ہے۔مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔معمولی مسلمان تو کسی شمار میں ہی نہیں۔جو لوگ مسلمان کہلاتے ہیں اور خلیفة المسلمين امیرالمومنین ہیں خودان کا حال ایسا ہے کہ باوجودبادشاہ ہونے کے ان کو اتنی جرأت نہیں کہ ان کی سلطنت میں کوئی شخص جرأت اور آزادی سے اظہار حق بھی کر سکے سلطان روم کی سلطنت میں کوئی چار سطر بھی مذہب عیسوی کے خلاف نہیں لکھ سکتا۔شاید یہ خیال ہو گا کہ تمام عیسائی سلطنتیں ناراض ہو کر سلطنت چھین لیں گی۔مگر خدا کی سلطنت کا ذرا بھی خیال نہیں اور نہ ہی خدا کی طاقت پر پورا بھروسہ ہے۔خود داری بھی ایک حد تک اچھی ہوتی ہے۔مگر جہاں ایمان جائے وہاں ایسی باتوں کا کیا خیال۔حالانکہ ہمارا تجربہ بتلاتا ہے کہ گورنمنٹ کو مذہب سے تعلق ہی کوئی نہیں۔دیکھو ہم نے عیسائیوں کے خلاف کتنی کتابیں لکھی ہیں۔اور کس طرح زور سے ان کے عقائد باطلہ کارد کیا ہے۔مگر گورنمنٹ میں یہ بڑی خوبی ہے کہ کوئی ناراضگی کا اظهار نہیں کیا گیا۔اصل وجہ اپنی ہی کمزوری ہوتی ہے۔ورنہ گورنمنٹ دین کے معاملات میں کبھی بھی دست اندازی نہیں کرتی"- (اقتباس ازتقرير بر مقام لاہور) آگے چل کر سلطان روم کے محافظ حرمین شریفین ہونے کے خیال کو غلط قرار دیتے ہوئےانگریزی گورنمنٹ کی یوں تعریف فرماتے ہیں۔بادشاہ اور خلیفہ المسلمین اور امیرالمومنین کہلا کربھی خدا کی طرف سے بے پرواہی اچھی بات نہیں۔مخلوق سے اتنا ڈرنا کہ گویا خدا کو قادرہی نہیں سمجھنا۔یہ ایک قسم کی سخت کمزروری ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ وہ خادم الحرمین ہیں۔مگر ہم کہتے ہیں کہ حرمین اس کی حافظ ہیں۔دین کی برکت اور طفیل ہے کہ اب تک وہ بچا ہوا ہے۔جومذہبی آزادی اس ملک میں ہمیں نصیب ہے وہ مسلمان ممالک میں خود مسلمانوں کو بھی نصیب نہیں دیکھو کس آزادی سے ہم کام کر رہے ہیں۔اور پھر کیسا اثر ہماری تالیفات کا ملک پرہواہے۔قادیان میں ہمیشہ پادری لوگ آیا کرتے تھے۔ان کے خیمے ہمیشہ قادیان کے باہر کی طرف نصب کئے جاتے تھے۔اوروہ پھر کر اپنا وعظ کیا کرتے تھے۔مگر اب عرصہ پندرہ برس کا ہو تا ہے کہ کبھی کسی پادری کی شکل بھی نظر