انوارالعلوم (جلد 2) — Page 143
انوار العلوم جلد ۲ ۱۴۳ تحفة الملوك صرف زبانی طور پر ہی کفایت نہیں کی بلکہ یہ سبق آپ نے جماعت کو ایسا پڑھایا کہ ہر موقعہ پر جماعت احمدیہ نے گورنمنٹ ہند کی فرمانبرداری کا اظہار کیا ہے اور کبھی کسی خفیف سے خفیف شورش میں بھی حصہ نہیں لیا اور یہ حکم صرف گورنمنٹ برطانیہ کے لئے نہیں بلکہ جس حکومت کے ماتحت احمد یہ جماعت رہتی ہو اسے حکم ہے کہ وہ اسکی کامل فرمانبردار اور محمد ہو اور اگر کوئی احمدی اسکے خلاف کرے تو وہ بموجب جناب کے صریح حکم کے احمد ی ہی نہیں کہلا سکتا۔ اب میں اپنے اس مکتوب کو ختم کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جناب ان تمام امور پر جو میں نے اس خط میں تحریر کئے ہیں غور فرمائیں گے اور اگر آپ چاہیں تو میں ایسی کتب بھی آپ کی خدمت میں بھیج سکتا ہوں جو حضرت مسیح موعود کے دعوے کے دلائل پر اور زیادہ روشنی ڈالتی ہیں اور اس سے بھی زیادہ مفید یہ طریق ہو سکتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو میں چند علماء جناب کی خدمت میں بھیج دوں جو جناب کے پاس پندرہ ہیں دن تک حاضر ر ہیں اور جناب ہر ایک ضروری مسئلہ پر ان سے گفتگو فرمائیں۔ چونکہ مسیح موعود ہونے کا دعوئی ایک عظیم الشان دعوئی ہے اور ہر ایک شخص کا جو مسلمان ہونے کا دعوی کرتا ہے فرض ہے کہ اس پر غور کرے اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ جناب اس پر ضرور پورے طور پر غور فرمائینگے اور جناب کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ جناب کے اعمال کا اثر صرف آپ کی ذات پر ہی نہیں پڑتا بلکہ آپ کی رعایا میں سے بہت ساحصہ آپ کے اعمال کی نقل کرتا ہے پس آپ کا ایک صداقت کو قبول کرنا صرف ایک ہی آدمی کا سچائی کو قبول کرنا نہیں ہے بلکہ ممکن ہے کہ اسکے ذریعہ ہزاروں کو ہدایت ہو اور ان سب کا ثواب آپ کے نام لکھا جائیگا اسی طرح آپ کا انکار صرف آپکا انکار نہیں بلکہ وہ بہتوں کے لئے رکاوٹ کا باعث ہو گا جس کے لئے جناب اللہ تعالٰی کے حضور میں جوابدہ ہیں کیونکہ اس شہنشاہ کے سامنے بادشاہ و گدا سب کو جوابدہ ہوتا ہو گا مجھے جو حکم دیا گیا تھا کہ میں جناب کی خدمت میں سلسلہ کے حالات عرض کروں میں اپنے فرض سے سبکدوش ہوتا ہوں اور اب جناب کا اختیار ہے کہ خواہ اس نعمت عظمی کو یعنی خادم خاتم النبین کی اتباع کو قبول فرما دیں جو ساری دنیا کی بادشاہت سے بڑھ کر ہے اور خواہ رد فرمادیں۔ یہ خدا تعالی کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو اس مبارک زمانہ میں پیدا کیا ورنہ لاکھوں بزرگ اور علماء اور امراء اس بات کی حسرت کرتے ہوئے مر گئے کہ کسی طرح ان کو مسیح موعود کا زمانہ ملے گو مسیح موعود فوت ہو چکے ہیں مگر ان کے دیکھنے والے موجود ہیں پس یہ زمانہ غنیمت ہے وہ دن آتے