انوارالعلوم (جلد 2) — Page xv
انوار العلوم جلد ۲ A تعارف کتب ہم تحصیلدار، ڈپٹی اور دیگر سرکاری عہدے حاصل نہیں کر سکے تو وہ سمجھ لے کہ اس کے چھوڑنے سے خدا ملتا ہے۔ اور نہ چھوڑنے سے دنیا۔ پس اگر تمہیں خدا پیارا ہے تو سیاست کو چھوڑ دو"۔ ۲۸ - دسمبر کے خطاب میں آپ نے آیت الکرسی کی لطیف تفسیر بیان فرمائی۔ خدا تعالیٰ کی عظمت اس کی صفات سے واضح کی اور سات روحانی مدارج کا ذکر فرمایا : حضرت خلیفہ اسیح الاو (۸) القول الفصل المسیح الاول کی وفات کے وقت خواجہ کمال الدین صاحب لندن میں تھے ۔ آپ آ۔ نومبر ۱۹۱۴ء میں وطن واپس آئے اور اہل پیغام کے پہلے جلسہ سالانہ ۱۹۱۴ء میں ایک لیکچر ” اندرونی ९९ اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب " پر دیا جو بعد میں ٹریکٹ کی شکل میں احمدی احباب میں مفت تقسیم کیا گیا۔ حضرت خلیفة المسیح الثانی نے جب اس لیکچر کا مطالعہ کیا تو اسی دن یعنی ۲۱- جنوری کو صبح سے شام تک یہ جوابی رسالہ "القول الفصل" کے نام سے تحریر فرمایا جس کو انجمن ترقی اسلام نے ۳۰- جنوری کو شائع کر دیا۔ اس میں حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں خواجہ صاحب کے غلط خیالات کی تردید کی ہے۔ اس طرح مسئلہ کفر اور غیر احمدیوں کی اقتداء میں نماز نہ پڑھنے کے مسئلہ کی بھی حقیقت بیان فرمائی۔ آخر پر حضور نے بنیادی اختلاف یعنی مسئلہ خلافت پر بحث کی اور خواجہ صاحب کے اس خیال کی کہ خلیفہ المسیح الاول بھی شخصی خلافت کے خلاف تھے دلائل و حقائق سے تردید فرمائی۔ انہی دنوں قاضی محمد یوسف صاحب مردان کے نام ایک خط میں حضور نے اس لاجواب رسالہ کی نسبت تحریر فرمایا : خواجہ صاحب کے رسالہ کا جواب آخر میں نے خود ہی لکھنا پسند کیا۔ پہلے مفتی محمد صادق صاحب کے سپرد کیا تھا۔ انہوں نے بھی لکھا ہے۔ لیکن اکیس جنوری کو میں نے جب (خواجہ صاحب کا وہ رسالہ پڑھا تو حیران ہو گیا۔ خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ خلافت کے =