انوارالعلوم (جلد 2) — Page 129
انوار العلوم جلد ۲ ۱۲۹ تحفة الملوك ذِكْرًا وَرَسُولاً يَتْلُوا عَلَيْكُمُ ايَتِ اللهِ مُبَيِّنَتِ لِيُخْرِجَا جَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ ، وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يَدْ خِلْهُ جَنَّتِ تَجْرِي مِنَ تَحْتِهَا الأَنْهُرُ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ، قَدْ اَحْسَنَ اللهُ لَهُ رِزْقًا (الطلاق: ۱-۱۲) اسی طرح قرآن کریم میں خلق کے معنوں میں بھی نزول کا لفظ آتا ہے جیسا کہ فرمایا وَ انْزَلْنَا الْحَدِيدَ (الحدید : ۳۶) یا یہ کہ يبَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سُوا تِكُمْ وَرِيْشًا (الاعراف: ۲۷) پس لفظ نزول سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں اور آسمان سے نازل ہونگے کیونکہ آسمان کا لفظ احادیث میں اس جگہ استعمال نہیں کیا گیا۔ " اب میں دوسرے شبہ کا ازالہ بھی کر دینا مناسب خیال کرتا ہوں کہ چونکہ ابھی تک دجال ظاہر نہیں ہوا اس لئے مسیح بھی نہیں آسکتا اس کے جواب میں میں یہ عرض کرونگا کہ دجال ظاہر ہو چکا ہے لیکن لوگوں نے اسے پہچانا نہیں دجال کے معنے قاموس میں لکھے ہیں کہ فِرْقَةً عَظِيمَةٌ تَحْمِلُ المَتَاعَ التِّجَارَةِ رجال ایک بڑی جماعت کو کہتے ہیں کہ جو اموال تجارت کو دنیا میں لئے پھریں پھر دجال کے معنے ہیں ملمع ساز کے ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت کوئی ایسی قوم بھی ہے یا نہیں جس کی تجارت سب دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور جو نہایت ملمع ساز ہے۔ تو ہماری نظر فوراً یورپین تاجروں اور پادریوں کی طرف پھر جاتی ہے جو مسیح کی خدائی کو عجیب رنگ آمیزی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اسوقت جس قدر عظیم فتنہ پادریوں کا ہوا ہے اس کی نظیر کبھی نہیں ملتی چونکہ وہ اس کثرت سے دنیا میں پھیل گئے ہیں کہ ہر علاقہ میں ان کے آدمی موجود ہیں جو لوگوں کو صراط مستقیم سے پھیر کر اور اور راہوں پر چلانا چاہتے ہیں اور ان کے فتنہ کا مقابلہ مسلمانوں کی طاقت سے باہر ہے آنحضرت ا نے بھی دجال سے مراد اشاعت مسیحیت ہی لی ہے کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص دجال کے فتنہ سے محفوظ رہنا چاہے وہ سورہ کہف کی دس اول کی آیتیں اور دس آخر کی آیتیں پڑھے اور ان دونوں مقامات میں مسیحیوں کا ذکر ہے اور خدا کا بیٹا ماننے پر ناراضگی ظاہر کی گئی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دجال سے مراد آنحضرت ا کے نزدیک بھی سیحی فتنہ ہی ہے جن کے پادری اور دعاۃ دنیا کے ہر حصہ میں پھر کر ایک خدا کی بجائے تین خداؤں کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں ورنہ آپ لال دجالی فتنہ سے بچنے کے لئے وہ آیات تلاوت کرنے کا حکم نہ فرماتے جن میں مسیحی مذہب کا رد ہے ۔ اب جناب کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ دجال آگیا ہے اور یہ کہ دجالی فتنہ سے مراد پادریوں کا فتنہ