انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 123

انوار العلوم جلد ۲ ۱۲۳ تحفة الملوك سے محفوظ تو خدا تعالیٰ کی ذات کے سوا اور کوئی نہیں۔ غرض اس تقدیم و تاخیر سے اس قدر نقائص لازم آتے ہیں کہ اسلام کا ان سے قلع قمع ہو جاتا ہے اور کونسا مسلمان ہے جو اپنی خوشی سے اسلام کی تباہی چاہے گا؟۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم میں تقدیم و تاخیر کی اجازت قلت تدبر کی وجہ سے لوگوں نے دی ہے ورنہ کلام كَلَامُ ا الْمُلُوكِ مُلوكُ الْكَلَامِ اس شہنشاہ کا کلام جسکے سامنے سب دنیا کے بادشاہ لرزاں و ترسماں ہیں اور ہر وقت اس کے محتاج ہیں ایسے عیوب سے بالکل پاک ہے اور اس نے جو لفظ جہاں رکھا ہے وہیں درست ہے اس کے آگے پیچھے کرنے کی کسی کو اجازت نہیں اور اگر کوئی آگے پیچھے کرے تو ضرور نقص لازم آئے گا جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ اگر آیت یعیسی انی مُتوفِّيكَ میں تقدیم و تاخیر کریں تو مسیح علیہ السلام کی وفات کا کوئی وقت رہتا ہی نہیں کیونکہ باقی سب وعدے پورے ہو چکے ہیں اور صرف متوفيك کو اگر باقی رکھا جائے تو اِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ کے بعد اس کی جگہ بنتی ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسیح کبھی فوت ہی نہ ہونگے پس بہتر یہی ہے کہ تقدیم و تاخیر کو اللہ تعالی کے کلام میں جائز نہ قرار دیا جائے ورنہ اس ذات باری کی ہتک بھی ہو گی اور اپنے علم کی بھی کمزوری ثابت ہوتی ہے۔ میں جناب کے سامنے اس وقت ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں جن میں لوگوں نے تقدیم و تاخیر کا فیصلہ دیا ہے لیکن دراصل ان کی غلطی ہے قرآن کریم کے لفظ جہاں رکھے گئے ہیں وہیں درست ہیں ان کا ہلانا درست نہیں۔ مثلاً بعض علماء نے لکھا ہے کہ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ (البقرة : ٥) میں تقدیم و تاخیر ہے کیونکہ پہلے مَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ چاہئے جو پہلے نازل ہوا اس کا ذکر پہلے مناسب تھا اور جو بعد میں نازل ہوا اس کا ذکر بعد میں چاہئے تھا۔ لیکن ایسا کہنے والوں نے صرف ایک ہی طرف نظر رکھی ہے یعنی نزول کے مدارج کو تو مد نظر رکھا ہے لیکن یہ نہیں دیکھا کہ ترتیب کے لئے کئی امور کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے مثلاً جب دو شخصوں کا ذکر کیا جائے تو بسا اوقات ان کی عمروں کے لحاظ سے ان کے ناموں کا ذکر کیا جائے گا لیکن کبھی ان کے قرابت کے لحاظ سے نام لئے جائیں گے اور اگر کوئی شخص اعتراض کرے تو یہ اس کے قلت تدبر کا نتیجہ ہو گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک نو عمر حاکم اگر کسی کے ہاں جائے تو وہ اس کے استقبال اور خاطر و مدارات کی طرف متوجہ ہو گا نہ کہ اس کے ساتھ کے بڑی بڑی عمروں کے ملازمین کی طرف۔ پس صرف کسی چیز کا زمانہ میں پہلے ہونا اس بات کو نہیں چاہتا کہ اس کا ذکر پہلے کیا جائے بلکہ بسا اوقات ترتیب دینے میں مراتب کو مد نظر رکھا جاتا ہے