انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiv of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page xiv

انوار العلوم جلد ؟ تعارف کتب (۷) برکاتِ خلافت خلافت ثانیہ کا پہلا جلسہ سالانہ دسمبر ۱۹۱۴ء میں منعقد ہوا۔ اس جلسہ میں حضرت فضل عمر خلیفہ المسیح الثانی کی پہلے تین دن کی تقاریر " برکات خلافت" کے نام سے شائع ہو ئیں ۔ ۲۶۔ دسمبر کے خطاب میں حضور نے جماعتی اتحاد میں رخنہ اندازی کے فتنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : یہ جو فتنہ پڑا ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے قبل از وقت خبر دے دی تھی کمزور دل کے لوگ کہتے ہیں کہ اب کیا ہو گا۔ احمد یہ سلسلہ ٹوٹ جائے گا۔ میں کہتا ہوں کہ اس فتنہ سے سلسلہ ٹوٹتا نہیں بلکہ بنتا ہے۔ مبارک ہے وہ انسان جو اس نکتہ کو سمجھے "۔ آپ نے حضرت مسیح موعود کے متعدد الہامات، رویا اور تحریرات پیش کیں جن سے روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ یہ فتنہ مقدر تھا اور اس کی وجہ سے جماعت کو غیر معمولی ترقی حاصل ہونے والی تھی۔ اس کے بعد آپ نے حضرت مسیح موعود کا خلیفہ ہونا چاہئے یا نہیں، کے موضوع پر نو (۹) آسمانی شہادتیں پیش فرمائیں اور ثابت کیا کہ حضرت مسیح موعود کے بعد خلافت یقینا مقدر تھی۔ ۲۷ - دسم F دسمبر کے خطاب میں آپ نے افراد جماعت کو بعض اہم نصائح فرمائیں۔ اور بعض امور سے اجتناب کی طرف توجہ دلائی۔ مثلا د نیوی سیاست میں ملوث ہونے کی خرابیاں احمدی لڑکی کا غیر احمدی لڑکے سے نکاح اور کفو کا مسئلہ نماز با جماعت کی اہمیت زکوة ، حضرت مسیح موعود کے سوانح کی حفاظت وغیرہ امور سیاست کے بارے میں آپ نے فرمایا : چونکہ سیاست میں پڑ کر انسان کو بہت جلد دنیا میں عزت و شہرت حاصل ہونے لگتی ہے۔ اس لئے لوگ اس نزدیک کے فائدہ کی خاطر دین کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ اور اس زمانہ میں تو دنیا کی کشش یوں بھی زیادہ ہے۔ پس سیاست جس قدر بھی انسان کو اپنی طرف کھینچے تھوڑا ہے۔ اس لئے حضرت مسیح موعود نے یہ پسند نہ کیا کہ جو تھوڑے سے آدمی ان کے ساتھ شامل ہیں ان کو بھی آپ سیاست میں دخل دینے کی اجازت دے کر اپنے ہاتھ سے کھو دیں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ ہمیں سیاست کے چھوڑنے کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔