انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 119

انوار العلوم جلد ۲ 119 تحفة الملوك ان راتوں میں سے پہلی ہے جن میں چاند کو گہن لگتا ہے اور درمیانے دن سے مراد اٹھا ئیسویں تاریخ ہے جو ان تاریخوں میں سے درمیانی تاریخ ہے جن میں سورج کو گہن لگتا ہے ۔ اور ان تاریخوں میں چاند اور سورج کو گہن لگ چکا ہے جس سے ثابت ہے کہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں اس مہدی کا ظہور ہو گا جس نے مسیح بھی کہلاتا ہے۔ اسی طرح اس زمانہ کی ایک یہ علامت آنحضرت ا نے بیان فرمائی ہے کہ لیتر کن القِلَا صُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا (مسلم کتاب الایمان باب بیان نزول عیسی ابن مریم یعنی اونٹ چھوڑ دیئے جائیں گے اور کوئی ان پر سوار نہ ہو گا اور قرآن شریف میں بھی ہے کہ وإِذَا الْعِشَارُ عَطِلَتْ (التکویر : ۵) یعنی دس ماہ کی گابھن اونٹنی کی بھی قدر نہ رہے گی اور وہ کھلی چھوڑ دی جائے گی چنانچہ اس زمانہ میں ریل کی سواری کی وجہ سے ان جانوروں کی وہ ضرورت نہیں رہی جو پہلے تھی اور اب تو مدینہ منورہ تک ریل پہنچ چکی ہے اور مکہ مکرمہ تک لے جانے کی تجویز ہو رہی ہے پس اس A علامت نے بھی اپنے وقت پر پورا ہو کر مسیح موعود کے زمانہ کی گواہی دیدی ہے اسی طرح اخبارات اور کتب کی اشاعت اور اریگیشن کی ترقی کی خبر دی گئی تھی جیسے کہ فرمایا وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (التکویر ) اور وإِذَا الْبِحَارُ سُجِرَتْ (التکویر (۷) اور آجکل مطابع کی ایجاد سے صحف و اخبار کی جو کثرت ہے اور ریلیوں کی وجہ سے ان کی جس قدر اشاعت ہے وہ محتاج تصدیق نہیں پھر دریاؤں کے پانی کاٹ کاٹ کر جس طرح نہریں نکالی گئی ہیں اور جس طرح دریاؤں کے پانیوں کو سکھا دیا گیا ہے وہ بھی ایک بین امر ہے جس کے لئے کسی مزید شہادت کی ضرورت نہیں اسی طرح اور بہت سی علامات ہیں جو مسیح موعود کے زمانہ اور قرب قیامت کے لئے نشان قرار دی گئی ہیں اور وہ پوری ہو چکی ہیں پس قرآن کریم اور احادیث کی شہادت سے صاف ثابت ہے کہ یہ زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہی ہے بلکہ بتیس (۳۲) سال سے وہ زمانہ شروع ہے کیونکہ حدیث سے ثابت ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آنا چاہئے اور اب تو تیرھویں صدی ختم ہو کر چودھویں صدی سے بھی تیسرا حصہ گزر چکا ہے۔ پس جبکہ یہ زمانہ مسیح موعود کا ہے اور اس کی بعثت کا زمانہ ہے بھی صدی کا سر تو حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا دعوی قبول نہ کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی عذر نہیں رہتا کیونکہ آ۔ آپ کے سوا اس وقت دنیا کے پردہ پر کسی انسان نے مسیح موعود ہونے کا دعوی نہیں کیا اور نہ نہ ہی کوئی مجددیت کا مدعی ہے اب دوہی صورتیں ہیں یا تو مرزا صاحب کا دعوی سچا تسلیم کیا جائے یا اسلام کی