انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 117

۱۱۷ آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر کوئی شخص اصلاحِ عالم کریگا۔اور جب احادیث پر نظر کرتے ہیں تو ثابت ہوتاہے کہ آنحضرت اﷺکا کامل مظہر مسیح موعود ہو گا کیونکہ اس کی نسبت آیا ہے کہ وہ آپ کی قبر میں داخل ہو گاپس ان سب باتوں کو ملا کر صاف ظاہر ہے کہ یہ زمانہ مسیح موعود کے لئےمخصوص ہے اور اس صدی کا مجدد مسیح موعود ہی ہو نا ہوچاہیے جس کی نسبت حدیث میں آتا ہے کہ لا مهدي الأعيسیٰ (سنن ابن ماجه باب شدة الزمان )یعنی جس وقت مسیح آئیں گے تووہی مہدی ہو نگے ان کے علاوہ کوئی اور مہدی نہ ہو گا۔پس یہ زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے اور تیرھویں صدی کو گزرے تیسں سال ہو چکے ہیں اس وقت کی مجدد کا ظاہر نہ ہونا بلکہ مسیح موعود کا نازل نہ ہونا اسلام کے لئے سخت تباہی کا موجب ہےاور اگر یہ بات فرض کرلی جائے کہ اس صدی کے سر پر کوئی مجدد نہیں آیا تو دشمنان اسلام کے لئےاسلام ہنسی کرنے کا ایک نادر موقعہ بہم پہنچا ہے کیونکہ اس وقت علوم جدیدہ کی کثرت کی وجہ سےلوگوں کے خیالات و دہریت کی طرف مائل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں علوم کی اشاعت کی وجہ سے الہام و غیره کا دعویٰ کامیاب نہیں ہو سکتا اور ان دعاوی کے ساتھ آجکل کوئی شخص دنیا میں غالب نہیں آسکتاپس اس صدی کا ایسے شخص سے خالی جانا گویا دشمن دین کے لئے ایک بڑی خوشی کا مقام ہو گا کیونکہ ان کے دعوے کا ثبوت بھی مل جائے گا کہ دیکھو ہم نہ کہتے تھے کہ الہام اور تعلق باللہ سب ڈھکوسلا ہے اور آج سے پہلے جو لوگ قرب الہٰی کے دعوے کر کے اپنے پیرو پیدا کر لیتے رہے ہیں تو یہ جہالت کی وجہ سے تھاور نہ اسلام کا یہ دعویٰ اس صدی کے متعلق کیوں پورا نہ ہواکہ ہر صدی کے سر پر مجّدد کا آنا ضروری ہے اگر ایسا ہو تا چلا آیا ہے تو اس صدی کے سر پر کیوں کوئی مجدد نہیں آیا معلوم ہوا کہ چونکہ اس وقت علوم کی اشاعت کی وجہ سے کوئی شخص اس دعوے میں کامیاب نہیں ہو سکتا اس لئے کسی کو جرأت نہیں ہوئی غرض کہ اگر یہ صدی مجددسے خالی جائے تو نہ صرف اللہ تعالی ٰپر وعدہ خلافی کا الزام آتا ہے بلکہ مسلمانوں کی رہی سہی طاقت بھی زائل ہو تی ہے کیونکہ دشمنوں کے ہاتھ میں ایک ایسا حربہ آجاتا ہے کہ جس سے محفوظ رہنے کا کوئی طریق نظر نہیں آتا اس زمانہ کا حال تو ایسا ہے کہ آج تک اگر کوئی مجدّد نہ بھی ہوا ہو تا اور کوئی وعدہ بھی نہ ہوتاتب بھی اس زمانہ میں ضرور کوئی مصلح آنا چاہئے تھا تاکہ مخالفین اسلام کو دلائل نیرّہ سے لاجواب کرے چہ جائیکہ مجد دین کا سلسلہ چلتے چلتے اس زمانہ میں آکر رک جائے۔مگر جیسا کہ میں پہلے بتا آیا ہوں اللہ تعالی ٰنے اس زمانہ کو بھی مجدد سے خالی نہیں جانے دیا اور