انوارالعلوم (جلد 2) — Page 115
انوار العلوم جلد ؟ ۱۱۵ تحفة الملوك وہم میں مبتلاء کر دیا ہے کہ میں جو کچھ چاہوں کر سکتا ہوں اب تک میرا وہم ہی تھا کہ کوئی زبر دست ہستی دنیا کی نگران ہے ورنہ یہ سب کارخانہ چند قوانین نیچر کے ماتحت چل رہا ہے اور میرے ہاتھ میں ان قوانین میں سے بہت سے قواعد کی کنجیاں تو آگئی ہیں اور باقی میں تھوڑی سی کوشش سے حاصل کر لونگا اور اپنے تمام کام خود کر لونگا پس یہ حربہ پہلے حربوں سے زیادہ تیز ہے اور اس زمانہ کے فتنہ کے دور کرنے کے لئے ایک نہایت ہی مقرب بارگاہ الہی کی ضرورت ہے جو اپنی قوت قدسیہ سے اس فتنہ کو دور کرے اور اللہ تعالیٰ کی طاقتوں اور قدرتوں کے زندہ ثبوت دے تاکہ جو لوگ دنیا کے عشق میں مبتلاء ہیں ان کے دل اس محبت سے سرد ہو کر اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہو سکیں۔ موجودہ فتنہ کی عظمت بظاہر تو نہایت مایوس کن ہے لیکن جب ہم قرآن کریم اور احادیث میں اس فتنہ کی خبر تیرہ سو سال پہلے سے لکھی ہوئی دیکھتے ہیں تو دل مضبوط ہو جاتے ہیں اور یقین آجاتا ہے کہ جس انسان نے تیرہ سو سال پہلے اس فتنہ کی خبر دی تھی اور وہ حرف بحرف پوری ہوئی ۔ ضرور ہے کہ اس نے جو علاج بتایا ہے وہ بھی ضرور تیر بہدف ہوگا اور جس خدا نے آج تک اسلام کو اس کے دشمنوں کے حملے سے بچایا ہے اب بھی بچائے گا وہ علاج کیا ہے ؟ وہ ایک ایسے انسان کی بعثت ، جو حضرت مسیح کے رنگ میں رنگین ہو کر اس دنیا کو مسیحی فتنہ سے بچائے گا اور مہدی کا درجہ پا کر مسلمانوں کی اندرونی اصلاح کرے گا اور ان کے امراض کو دور کرے گا اور اس کے مسیحی نفس سے لوگ شفاء پائیں گے کیونکہ وہ آنحضرت ا کی اتباع کرتے کرتے آپ کا کامل مظہر ہو جائے گا حتی کہ اس کا کام آنحضرت ہی کا کام ہو گا اور اس میں اور آنحضرت ﷺ میں کوئی روئی نہ ہوگی جیسا کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دُوا خَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُو بِهِمْ یعنی آنحضرت ا دو دفعہ دنیا کی ہدایت فرمائیں گے ایک دفعہ تو اپنے زمانہ میں جو صحابہ کرام کا زمانہ تھا اور ایک وفعہ آخری زمانہ میں ایک ایسی جماعت کو ہدایت فرمائیں گے جو صحابہ سے فاصلہ پر ہو گی۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ آنحضرت ا فوت ہو چکے ہیں آپ تو دوبارہ دنیا میں تشریف نہیں لا سکتے اس کا یہی مطلب ہے کہ آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر آپ کی کامل اتباع اور فرمانبرداری کر کے ایک شخص اس زمانہ میں اسلام کی درستی اور تجدید کرے گا اس لئے اس کی اصلاح اور اس کا کام آنحضرت ﷺ کی ہی اصلاح اور آپ کا ہی کام ہو گا کیونکہ وہ آپ کی محبت سے ایسا سر شار ہو گا کہ اس کا اپنا وجو د بالکل آپ کے وجود میں فنا ہو جائیگا اور دونوں کا تعلق ایسا ہی ہو گا جیسا کہ کسی شاعر نے بیان کیا ہے ہے جو