انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 111

انوار العلوم جلد ۲ 111 تحفة المملوك پر بحث ہو گی اور ایک لمبا تاریخی جھگڑا شروع ہو جائے گا اور مذاہب کا فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے گا مگر اسلام یہ نہیں کہتا کہ قصوں اور روایتوں کے ساتھ میری صداقت کو پر کھو بلکہ اسلا اسلام وہ مذہب ہے جو اپنے ساتھ زندہ معجزات رکھتا ہے اور کوئی زمانہ نہیں گزرتا کہ اللہ تعالی اسلام کی صداقت کے لئے کوئی زبردست شہادت ظاہر نہیں کرتا اور یہی وہ نشان ہے جس کے دکھانے سے غیر مذاہب کے لوگ قاصر ہیں اور جب اس طرف ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی آنکھیں نیچی ہو جاتی ہیں اور ان کی زبانیں بند ہو جاتی ہیں گویا کہ وہ کلام سے بالکل عاری ہیں اور ان کی زبانیں گونگی ہیں اور ہر زمانہ میں صداقت کے ثبوتوں کا ساتھ ہونا ہی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ جب ہر ایک شخص کسی مذہب کی صداقت کے نشان اپنی آنکھوں سے دیکھ لے تو اسے اس مذہب کی سچائی کے اقرار سے کوئی انکار نہیں ہو سکتا۔ دنیا کے کل مذاہب اس وقت اپنی اپنی صداقت کا دعویٰ پیش کر رہے ہیں اور ہر ایک یہ کہ رہا ہے کہ پدرم سلطان بود - ہمارا مذہب سچا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمارے آباء واجداد کے ساتھ خدا نے کلام کیا تھا لیکن اسلام یہ دعوی نہیں کرتا بلکہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ جو لوگ مجھ پر پورے طور سے عامل ہوتے ہیں ان کو میں اپنی صداقت کے زندہ ثبوت دیتا ہوں اور اسلام کے پیرو کو کتابوں میں قصے پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ وہ خود اپنے مشاہدہ سے اسلام کی صداقت کو معلوم کر سکتا ہے کیونکہ اسلام نے الہام کا دروازہ بند نہیں کیا بلکہ اسے ہمیشہ کے لئے جاری رکھا ہے اور یہی نہیں کہ اسے جاری رکھا ہے بلکہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد کا آنالازمی قرار دیا ہے اور خدا تعالیٰ کا آنحضرت ا سے وعدہ ہے کہ ہمیشہ ایسا ہو تا رہے گا۔ یہ نشان ایک ایسا نشان ہے کہ کسی مذہب کی طاقت نہیں کہ اس کا مقابلہ کر سکے کیونکہ کوئی مذہب اسلام کے سوا الہام کے دروازہ کو کھلا نہیں رکھتا بلکہ ہر ایک مذہب اس دروازہ کو اب بند قرار دیتا ہے اور یہی کہتا ہے کہ پہلے ایسا ہوتا تھا اب نہیں ہو تا حالا نکہ اگر پہلے الہام ہوتا تھا تو اب بھی ہونا چاہئے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی صفات کسی وقت میں بھی معطل نہیں ہو سکتیں اور اگر خدائے تعالٰی اپنے پاک بندوں سے پہلے کلام کرتا تھا تو اب بھی ضرور ہے کہ وہ کلام کرے اور اگر اب نہیں کرتا تو پہلے بھی نہیں کرتا تھا ورنہ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ کی صفت شنوائی بھی کبھی زائل ہو جائے اور صفت بینائی بھی جاتی رہے کیونکہ اگر ایک صفت معطل ہو سکتی ہے تو دوسری صفات بھی معطل ہو سکتی ہیں۔