انوارالعلوم (جلد 2) — Page xiii
انوار العلوم جلد ۲ 4 تعارف کتب ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور اسے اس لڑائی میں غیر جانبدار رہنے کا مشورہ دیا۔ لیکن ترکوں نے اس مشورہ کو حقارت سے ٹھکرا دیا۔ ترکی میں اسلامی حکومت ہونے کی وجہ سے اس وقت مسلمانوں کے ذہن میں یہ سوال خلش کا موجب بن رہا تھا کہ اس موقعہ پر ان کو کیا کرنا چاہئے ۔ جبکہ ایک طرف وہ سلطنت ہے جو مکہ اور مدینہ کی محافظ ہے اور دوسری طرف وہ جو مسلمانوں کے جان ومال کی محافظ ہے۔ اہزادہ کس سے ہمدردی کریں۔ ان حالات میں حضرت مصلح موعود نے 9 نومبر 1917ء کو اپنی جماعت کی راہنمائی کے لئے یہ مضمون تحریر فرمایا جو ریویو آف ریلیجز قادیان کی جلد نمبر ۱۳ شمارہ نمبر 11 میں صفحات ۴۲۱ تا ۴۲۷ پر جماعت احمدیہ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں حضور نے ترکی کے جنگ میں شامل ہونے کو بے سبب اور بے وجہ قرار دیا ۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات پیش فرما کر بتایا کہ حضرت اقدس سلطان ترکی کے دعوئی خلافت کو غلط قرار دیتے ہیں اس کی حکومت سے انگریزوں کی حکومت کو ترجیح دیتے ہیں لہذا جماعت احمدیہ کو گورنمنٹ برطانیہ سے وفاداری اور اس کی اعانت کرنی چاہئے اور اس کا خیر خواہ ہونا چاہئے۔ نیز احباب جماعت کو یہ بھی تلقین فرمائی کہ وہ دوسروں کو بھی یہ سمجھاتے رہیں کہ گورنمنٹ برطانیہ کی فرمانبرداری ان کا مذہبی فریضہ ہے۔ کیونکہ جس امن سے ہم گورنمنٹ برطانیہ کے ماتحت زندگی بسر کر رہے ہیں وہ امن ہرگز کسی اسلامی یا غیر اسلامی سلطنت میں ہمیں نہیں مل سکتا۔ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے : نے نہایت دورانا راندیشی سے جماعت کو وقتی فوائد اور سطحی جذبات سے بچتے ہوئے صحیح قرآنی تعلیم کے مطابق طرز عمل اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا ۔ پس میں تمام جماعت کو اس اعلان کے ذریعہ سے اطلاع دیتا ہوں کہ اپنے امام کے حکم کے ماتحت ہر طرح سے گورنمنٹ برطانیہ (حکومت وقت - ناقل) کے خیر خواہ رہیں۔ اور ہر ممکن طریق سے اس کی مدد اور اعانت کرتے رہیں ۔ میں اپنی جماعت کو اس امر کی بھی تاکید کرتا ہوں کہ وہ آجکل دعاؤں اور آہ وزاری پر بہت زور دیں۔ اور اپنے نفوس میں تبدیلی پیدا کریں۔ اور اللہ تعالی کے آگے گر جائیں۔ تا اسلام کی ترقی کی صورت نکلے اور اس کے زوال کے اسباب دور ہوں اور شرک و بدعت کی جگہ توحید اور کچی اطاعت کی ترقی ہو ۔ “ ९९