انوارالعلوم (جلد 2) — Page 104
انوار العلوم جلد ۲ ۱۰ تحقة الملوك طرح جب بندہ اپنے رب کی نسبت کہتا ہے کہ الہی آپ بڑی تعریفوں والے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو تعریفوں والا کر دیتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اقرار کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے بڑا بنا دیتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید اور عظمت کے اقرار سے ایک تو عبادت کا ثواب ملتا ہے اور ایک اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت جوش میں آکر اس بندے کو پاک کر دیتی ہے ، قابل تعریف بنا دیتی ہے، بڑا بنا دیتی ہے اسی وجہ سے حدیث میں آنحضرت ا نے فرمایا کہ كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَانِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِیمِ اور چونکہ نماز تفصیل ہے ان کلمات کی اور اس کے ہر ایک رکن میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کی جاتی ہے اور عظمت بیان کی جاتی ہے اس لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اِنّا نے فرمایا کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ (عبوت : ٣٧) العنکبوت : ۴۶) کیونکہ جوں جوں انسان نمازیں پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور حمد اور عظمت کا اقرار کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کے اعمال حسنہ کے ترازو کو بوجھل کرتا جاتا ہے ! ہے اور انسان کا رفع ہوتا جاتا ہے اور چونکہ گناہ نتیجہ ہے مادیت کے تعلق کا۔ جب انسان اس عالم سے بلند ہوتا جاتا ہے تو اس کا تعلق مادیت سے کم ہوتا جاتا ہے اور لا زیادہ گناہوں سے محفوظ ہوتا جاتا ہے ۔ پس جو انسان نمازیں پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بھی کرتا ہے تحمید بھی کرتا ہے اور اس کا درجہ بلند نہیں ہوتا اور اسے پاک نہیں کیا جاتا بلکہ وہ طرح طرح کے گندوں میں مبتلاء ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس کی تسبیح و تحمید میں کوئی نقص ہے پس مسلمانوں کا نمازیں پڑھنا اور ان پر مداومت کرنا اس بات پر قطعا دلیل نہیں کہ وہ نیک ہیں اور ان میں ابھی دین باقی ہے کیونکہ جب نمازوں سے وہ اثمار نہیں پیدا ہوتے جو نمازوں کے لئے مخصوص ہیں تو وہ نمازیں بے مغز ہیں اور ان کے اندر ہزاروں قسم کے ایسے اجرام داخل ہو گئے ہیں جنہوں نے ان کی قوت مثمرہ کو ضائع کر دیا ہے ۔ اسی طرح زکوۃ کی نسبت قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تَطَهَّرُهُمْ وَ تُزَكِّيهِمْ بِهَا - (التوبہ: ۱۰۳) اے نبی ان کے اموال سے زکوٰۃ لیا کرو اور اس ذریعہ سے ان کے ان کو ظاہری و باطنی طور پر پاک کیا کرو اب جو لوگ زکوۃ دیتے ہوئے پاک نہیں ہوتے اور ان کے اموال طیب نہیں ہیں بلکہ ہر قسم کے جائز و ناجائز وسائل سے وہ ان کو بڑھاتے رہتے ہیں اور دل سے دنیا کی محبت سرد نہیں ہوتی تو ہم کب کہہ سکتے ہیں کہ وہ لوگ زکوۃ دیتے ہیں۔ اسی طرح روزہ کے احکام بیان فرما کر اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ الله آیتم