انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 101

۱۰۱ فضل سے اونچا کیا جا تا ہے اور اسی کی ہدایت سے ہدایت پاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب آسمانی تعلیموں سے انسان کو ایک طرف کر دیں اور ایک ایساانسان فرض کر یں جسے آسمانی کتابوں کا کچھ علم نہیں تو یہ انسان بہائم کی طرح کی زندگی بسر کرے گا اور اس کا کام صرف کھانا اور پینا ہو گا۔ان تمام اخلاق سے وہ کورا ہو گا جو انسان کو دوسرے حیوانات سے ممتاز کرتے ہیں اور اس کی تمام وہ استعدادیں جو اللہ تعالی ٰنے انسان میں ترقی کے لئے پیدا کی ہیں دبی رہیں گی او روہ ان سے کام نہ لے سکے گا چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قومیں جو ساری کتابوں سے محروم ہیں ان کی زندگیاں چارپایوں کی زندگیوں سے زیادہ مشابہ ہیں اور وہ کھانے پینے اور شہوت رانی کرنے کے سوا کچھ نہیں جانتیں جس سے معلوم ہو تا ہے کہ چونکہ انسان کی پیدائش مادہ سے ہے اس کارجحان بغیر ہدایت الہٰی کے مادہ کی طرف ہی ہوتا ہے اور جب تک اس کو اللہ تعالی ٰکی طرف سے ہدایت نہ ہو وہ روح کی ترقی کی راہ نہیں سوچ سکتا۔ہاں خدا تعالی کی طرف سے ہدایت پا کر اس کا درجہ اور جانوروں سے بلند ہونا شروع ہو تاہےاور جس قدر کوئی انسان روحانیت میں کمال پیدا کرتا جاتا ہے اسی قدر اسے دوسرے حیوانات سےامتیاز پیدا ہوتا جاتا ہے اور اس کے اعمال میں خاص فرق نمایاں ہونا شروع ہو جا تا ہے پس اس حدیث کا مطلب اس حقیقت امر کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ہے کہ نفس انسانی جوبہیمی صفات کا مجموعہ ہے اسے اپنی تمام بہیمیت سمیت ایک پلہ میں ڈال دیں اور ان کلمات کے نتائج اور ثمرات کو ایک طرف ڈال دیں تو یہ کلمات جس پلہ میں ہوں گے وہ نیچے ہو جائے گا اور یہ بات ثابت ہے کہ ترازو کاایک پلہ جب نیچے ہو جائے تو دوسرا اوپر ہو جا تا ہے پس جس قدر اعمال کا پلہ نیچے ہوگا اسی قدروه پلہ جس میں نفس انسانی سے اوپر ہو تا جائے گا اور جس قدر نفس والا پلہ اوپر ہو تا جائے گااسی قدرانسان کاکو قرب الہٰی ہوتا چلا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا( بو جہ تمام عیبوں سے پاک ہونے اور کل خوبیوں کے جامع ہونے کے) مقام بلند ہے پس اعمال کے پلہ کے نیچے ہونے اور بوجھل ہونے سے انسان کا رفع مراد ہے کیونکہ یہ اس کا لازمی نتیجہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ نیکی اور تقوی ٰکا نتیجہ احادیث میں رفع بتایا گیا ہے اور مسلمانوں کو جو وَارفعنی کی دعا سکھائی گئی اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ ہمارے اعمال حسنہ کا پلہ بھاری ہو جائے تا ہمارا رفع ہو اور اگر انسان کی بہیمیت کا پلہ بھاری ہو گا تو اعمال حسنہ کا پلہ ہلکا ہو کر ہوا میں اٹھ جائے گا اور انسان کو کوئی فائدہ نہ دے گا بلکہ وہ نیچے چلا جائے گا اسی کی طرف اشارہ ہے قرآن کریم کی اس آیت میں کہ فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍﭤ وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌ (القارعہ: ۷ تا ۱۰) یعنی جس کے اعمال