انوارالعلوم (جلد 2) — Page 100
انوار العلوم جلد ۲ ۱۰۰ تحقة المملوك کے اندر ایک خاص ملکہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے اسے بدیوں کی شناخت ہو جاتی ہے اور پوشیدہ در پوشیدہ بدیوں پر اسے اطلاع دی جاتی ہے اور مخفی در مخفی گناہ کا علم جو دوسروں کو نہیں ہوتا اسے دیا جاتا ہے اور ملائکہ اسے ہر موقعہ پر ہوشیار کر دیتے ہیں کہ دیکھنا یہ گناہ ہے ہو شیار ہو جانا۔ اور اسے شیطان کے مقابلہ کی مقدرت عطا ہوتی ہے کیونکہ نمازی اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کسی کا احسان نہیں رکھتا اور خود اپنے بندہ کو اس کے اعمال کا اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ دیتا ہے پس جب نماز میں کمال تذلیل اور خشوع و خضوع کے ساتھ انسان خدا تعالیٰ کے حضور میں گر جاتا ہے اور وہ تمام تذلل کے طریق جن کو کسی ملک کے باشندوں نے اظہار عبودیت کے لئے مقرر کیا ہے استعمال کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے اٹھاتا ہے اور جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے خدا تعالیٰ ملائکہ کو فرماتا ہے کہ دیکھو میرے اس بندہ نے میری پاکیزگی کا اقرار کیا ہے تم اسے پاک کر دو اور اس نے میری حمد کی ہے تم اس کی حمد کو دنیا میں پھیلاؤ اور اس نے میرے حضور میں کمال تذلل اور انکسار کا اظہار کیا ہے تم اس کو عزت و رفعت دو اور اسی کی طرف اشارہ ہے اس حدیث میں جو صحیح بخاری کی آخری حدیث ہے كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى النِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَانِ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِیمِ یعنی دو ایسے کلے ہیں کہ جو زبان پر تو بہت ہلکے معلوم ہوتے ہیں لیکن میزان میں بہت بھاری ہوتے ہیں اور رحمن کو بہت پیارے ہیں وہ کلمات یہ ہیں سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِیمِ اور غور سے دیکھا جائے تو نماز ان دونوں کلمات کی تفسیر ہے اور نماز کے مختلف اعمال کا خلاصہ یہی بنتا ہے کہ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ شبیح ، تحمید اور تعظیم الہی پر ہی نماز میں زور دیا گیا ہے۔ غرض کہ ان کلمات اور نماز کا ماحصل ایک ہی ہے ہاں نماز ایک مفصل اقرار ہے اور ان کلمات میں مجملاً وہ مضامین بیان کئے گئے ہیں جن کی تفصیل نماز میں کی گئی ہے۔ اب اس حدیث پر غور کر کے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں وہ سب امور بیان کئے گئے ہیں۔ جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں اور وہ اس طرح کہ آنحضرت ا فرماتے ہیں کہ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ تسبیح و تحمید کرنا اور عظمت باری کا اقرار کرنا کو بظاہر سہل ہے لیکن ہے بہت سے ثمرات کا مثمر ۔ اور میزان میں اس کا بڑا و زن ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ انسان در اصل چند حیوانی نباتی اور جمادی اجزاء سے مرکب ہے اور بالطبع اس کا تعلق ارضی اشیاء سے زیادہ ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے