انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 99

۹۹ ہوتیں جن کی مثمر ایک مسلمان کی عبادت ہوتی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اس مغز سے خالی ہیں جو اسلامی عبادت میں ہے بلکہ وہ ایک قشر ہے جو بظاہر اسلامی عبادت سے ملتا ہے لیکن اندر سے ان فوائد سے خالی ہے جو اسلامی عبادت میں ہیں پس اگر مسلمانوں کی نماز بھی اس حقیقت سے محروم ہوجائے جس کی وجہ سے اسے دوسرے مذاہب کی عبادات پر فضیلت تھی تو اس میں اور دیگر مذاہب کی عبادات میں کچھ فرق نہیں بلکہ مشقت کے لحاظ سے وہ اس سے زیادہ ہیں کیونکہ دیکھا جا تا ہے کہ اہل ہنود میں عبادت کے ایسے ایسے طریق رائج ہیں جن کی مشقتّوں کا مقابلہ اسلامی نماز قطعاً نہیں کر سکتی۔مثلاً بعض ان میں ایسا کرتے ہیں کہ صبح سورج نکلنے سے پہلے مشرق کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوتے ہیں اور جونہی کہ سورج نکلتا ہے اسکی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور کچھ منتر پڑھتےجاتے ہیں اور شام تک اسی طرح کھڑے سورج کو دیکھتے رہتے ہیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی اپنی آنکھوں کو اس سے نہیں پھیرتے حتیّٰ کہ وہ غروب ہو جاتا ہے یا مثلاًً یوں کرتے ہیں کہ جاڑے کےموسم میں سرد پانی میں کھڑے ہوئے تپسیا کرتے ہیں اور گرمی کے موسم میں دھوپ میں بیٹھ کر اپنےاردگرد آگ کے الاؤجلا لیتے ہیں اور اس طرح اپنے آپ کو عذاب دوزخ میں مبتلاء کر لیتے ہیں پس مشقت کے لحاظ سے ان کی عبادات اسلامی عبادات سے بڑھ کر ہیں پھر اگر مسلمانوں کی نماز بھی مغز سے خالی ہو جائے تو اس کو ان عبادات پر کوئی فضیلت نہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالی ٰنے اسلامی نماز کی صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ ان الصلوة تنهى عن الفحشاء والمنكر – (العنكبوت : ۴۶) نماز انسان کو بے حیائیوں اور مکروہ افعال سے باز رکھتی ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ عام طور پر سوائے شاذو نادر کے مسلمان مساجد میں جاکر نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور نہ صرف فرض نمازیں بلکہ نوافل بھی ادا کرتے ہیں اور پھر مسجد سے نکل کر کسی قسم کے گناہ سے ان کو پر ہیز نہیں ہو تا جھوٹ وہ بولتے ہیں رشوت وہ لیتے ہیں، فریب وہ کرتے ہیں، خیانت سے ان کو پرہیز نہیں تجارتی دھوکوں سے وہ مجتنب نہیں غرض کہ ہزاروں قسم کے گناہوں میں مبتلاء ہیں پھر کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ مسلمان نمازیں ادا کرتے ہیں اگر وہ نماز کو انہی شرائط کے ساتھ ادا کرتے جو اسلام نے مقرر کی ہیں تو ان کے قلوب پاک ہو جاتے اور گناہوں کی میل دور ہو جاتی اور ہر قسم کے گناہوں اور بدیوں سے محفوظ ہو جاتے کیونکہ نماز میں اللہ تعالیٰ نے اسی حکمتیں مخفی رکھی ہیں کہ اسے سنوار کر پڑھنے والا اور ان شرائط کو ملحوظ رکھنے والا جو اللہ تعالیٰ نے ادائے نماز میں مقرر فرمائی ہیں اپنے اندر فوراً ایک خاص تبدیلی پاتا ہے اور زیادہ دن گزرنے نہیں پاتے کہ اس