انوارالعلوم (جلد 2) — Page 95
۹۵ ہونے کے سامان پیدا ہوتے ہیں اور اموال وامتعہ کا حاصل کرنااسی باعث سے ہوتا ہے انسان اپنے جسم کو آرام پہنچائے اور ان بہیمی خواہشات کو پورا کرے جو انسان میں اکثراوقات بڑے زور سے پیدا ہوتی رہتی ہیں۔پس جو کام انسان کے اندر خود بخوبی ہو رہا ہے بلکہ مذہب سے دور ہو کر جوانسان کی واحد غرض ہو جاتی ہے اس کی نسبت یہ خیال کرنا کہ اسلام کا مدعا اس طرف متوجہ کرنا ہےاسلام کو عبث قرار دینا ہے کیونکہ جو کام اسلام کے وجود سے بھی پہلے سے ہو رہا ہے بلکہ اسلام کوترک کر کے لوگ اس کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں جیسے کہ مذہب سے آزادا قوام ہیں کہ ان کی زندگی کا ایک یہی مقصد ہے کہ وہ دنیا کمائیں اور اپنے نفسانی جذبات کو پورا کریں اور کھانے پینےاور پہننے اور آرام سے زندگی بسر کرنے میں ہی اپنے دلوں کی خوشی پاتے ہیں اس کو اسلام کی غرض وغایت قرار دینا گویا اسلام کو فضول اور لغو قرار دیا ہے پس اگر دنیاوی ترقی یا بہیمی جذبات اور نفسانی خواہشات کے پورا کرنے کے سامان مہیا کرنے کی طرف متوجہ کر ناہی اسلام کی اصلی غرض ہے تو یہ غرض اسلام کے بغیر بھی پوری ہو رہی ہے اور اس غرض کو پورا کرنے کے لئے کسی نبی کی بعثت کی ضرورت نہ تھی خود نفس انسانی اس کے لئے کافی محّرک ہے۔پس اس زمانہ میں مسلمانوں نے اگر بعض عادل اور انصاف پسند حکومتوں کے ماتحت یورپ کی دنیاوی ترقی کو دیکھ کر تجارت میں ترقی کی ہے یا علوم جدیدہ کے سیکھنے میں کچھ دلچسپی ظاہر کی ہے توخواہ وہ ترقی کے آخری نقطہ تک ہی کیوں نہ پہنچ گئے ہوں اسے اسلام کی ترقی نہیں کہہ سکتے اورمسلمانوں کا علوم جدیدہ میں مہارت پیدا کرلینا یا تجارت میں کوشش کرنا اسلام کی ترقی نہیں کہلاسکتاکیونکہ جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے اس ترقی کا اسلام کی ترقی سے کچھ تعلق نہیں اور اسے دیکھ کر خوش ہونا اور اسلام کے مستقبل پر اطمینان ظاہر کرنا اول درجہ کی نادانی اور اسلام کی اصل حقیقت سے بے خبری کی علامت ہے کیونکہ اگر اسلام کا مقصد یہی تھا تو اس مقصد کو یورپ کے لوگ کافی طور پر پورا کر رہے ہیں بلکہ ان کی توجہ دنیا کی طرف مسلمانوں سے بہت زیادہ ہے حتیّٰ کہ مسلمانوں کی تجارتی اور علمی ترقی کو یورپ کے مقابلہ میں ایک پہاڑ کے مقابلہ میں ایک ٹیلہ کی نسبت بھی نہیں دی جاسکتی ہیں سخت غلطی خوردہ ہیں وہ انسان جو مسلمانوں کی ذہنی یا علمی یا تجارتی ترقی کو اسلامی ترقی کہہ کر خوش ہوتے ہیں اور مسلمانوں کو ان شعبہ ہائے ترقی کی طرف متوجہ کرتےرہتے ہیں اگر وہ سمجھتے کہ ان امور کا اسلام سے کیا تعلق ہے۔میں جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں اسلام ایک صادق مذہب ہونے کی وجہ سے انسانی دماغ کے تمام مفید خیالات کے پورا کرنے کا ممد و معاون