انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 91

انوار العلوم جلد ۲ ۹۱ تحفة الملوك اپنی ساری عمر حکومت سے علیحدہ رہنا ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے حکومت کے علاوہ اور بھی ایسے ذرائع مقرر فرماتے ہیں جو مذہب کی ترقی اور تقویت کا باعث ہوتے ہیں پس یہ ظاہری کمزوری ایسے دکھ کا باعث کبھی نہ ہوتی جس قدر کہ مسلمانوں کی دینی کمزوری تکلیف کا موجب ہے اس وقت کم سے کم برٹش گورنمنٹ کے زیر سایہ ممالک میں مسلمان ہر طرح آزاد ہیں اور انہیں مذہبی مراسم کے ادا کرنے میں کسی قسم کی تکلیف نہیں۔ مساجد میں بلند آواز سے اذان کہی جاتی ہے اور پنج وقتہ نماز ادا ہوتی ہے لوگ روزہ رکھتے ہیں حج کرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں۔ گورنمنٹ نے کبھی کسی طرح بھی مذہبی دست اندازی نہیں کی اور ہر طرح کی مذہبی آزادی دے رکھی ہے اور ممالک کو اگر علیحدہ رکھیں تو ہندوستان کی حالت ہم سے پوشیدہ نہیں کہ ابھی زیادہ مدت نہیں گزری کہ مرہٹوں اور سکھوں کے زمانہ حکومت میں مسلمانوں کو کس قدر تکالیف تھیں اور کس طرح ان کے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں دست اندازی کی جاتی تھی مسجدوں کی بجائے گوردوارہ اور مند رہنے ہوئے اب تک موجود ہیں خود ہمارے گاؤں یعنی قادیان میں ایک گوردوارہ ہے جو پہلے ہمارے گھر کی مسجد تھی لیکن جب سکھوں ۔ مانے ہمارے دادا کے والد کو رات کے وقت چھاپا مار کر شہر سے نکلنے پر مجبور کیا تو ان کے ایام حکومت میں یہ مسجد گوردوارہ بنائی گئی۔ اب تک محرابوں کے نشان موجود ہیں ستفادے بنے ہوئے ہیں۔ پس ہم لوگ خوب جانتے ہیں کہ ظالم حکومت کیا کچھ نہیں کر سکتی اور یہی وجہ ہے کہ ہم گورنمنٹ برطانیہ کے احسانات کو دیکھ کر باغ باغ ہو جاتے ہیں اور جس طرح اس مہربان گورنمنٹ نے مذہبی آزادی دے رکھی ہے اس کے شکریہ کی اپنے اندر طاقت نہیں پاتے اللہ تعالیٰ ہی اس محسن حکومت کو اعلیٰ سے اعلیٰ ترقیات عطا فرمائے نہایت سیاہ باطن ہے وہ انسان جو اس گورنمنٹ کے احسانات کو نہیں مانتا اور باوجود اس قدر آزادی کے اس سے بغض رکھتا ہے مگر ی گورنمنٹ کا احسان دلی پر نمک بھی چھڑکتا رہتا ہے کیونکہ جب دیکھا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے اس پر از انصاف عہد سے فائدہ نہیں اٹھایا اور جو مذہبی آزادی اس گورنمنٹ نے عطا فرمائی تھی اس کی قدر نہیں کی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ مسلمان اس وقت اور اس امن سے فائدہ اٹھا کر دینی طور پر ترقی کرتے لیکن وہ روز بروز گرتے ہی چلے جاتے ہیں اور اس بات کے ثبوت کے لئے حکومت کے جیل خانے کافی شہادت ہیں۔ کس قدر دل کو دکھ پہنچانے والا بلکہ دل کو خون کر دینے والا وہ نظارہ ہوتا ہے جب کوئی مسلمان جیل خانوں کی سیر کرتا ہے کیونکہ سب جیل خانے مسلمانوں سے بھرے پڑے ہیں اور ان کی اخلاقی حالت بجائے دوسری قوموں سے اعلیٰ ہونے کے بہت اونی ہے اور وہ