انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page x of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page x

انوار العلوم جلد ۲ ۳ تعارف کتب حضرت فضل عمر نے شوری کے سامنے منصب خلافت کے موضوع پر معرکۃ الآراء تقریر فرمائی اور ابراہیمی دعا ربَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِنْهُمْ کی روشنی میں نہایت لطیف پیرایہ میں مقام خلافت، فرائض خلافت اور تزکیہ نفوس کے طریق پر روشنی ڈالی اور خلافت اور انجمن سے متعلق مسائل پر سیر حاصل بحث فرمائی۔ آپ نے دعائے ابراہیمی کی روشنی میں فرمایا : اس آیت میں نبی کا کام بیان فرمایا تبلیغ کرنا کافروں کو مومن کرنا مؤمنوں کو شریعت پر قائم کرنا، پھر بار یک درباریک راہوں کا بتانا پھر تزکیۂ نفس کرنا یہی کام خلیفہ کے ہوتے ہیں ۔ اب یاد رکھو کہ اللہ تعالی نے یہی کام اس وقت میرے رکھے ہیں“۔ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں کے اس خیال پر کہ حضرت مسیح موعود کی اصل جانشین انجمن ہے اور خلیفہ عمومی نگرانی کے لئے انجمن کا پریذیڈنٹ ہوتا ہے پر شدید تنقید کرتے ہوئے صحیح مسئلہ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرمایا : "خلیفہ کا کام کوئی معمولی اور رذیل کام نہیں یہ خدا تعالیٰ کا ایک خاص فضل اور امتیاز ہے جو اس شخص کو دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ انجمنیں محض اس غرض کے لئے ہوتی ہیں کہ وہ بھی کھاتے رکھیں اور خلیفہ کے احکام کے نفاذ کے لئے کوشش کریں ۔۔۔۔۔۔ کوئی انجمن نبی کا کام نہیں کر سکتی اگر انجمنیں یہ کام کر سکتیں تو خدا تعالی دنیا میں مامور اور مرسل نہ بھیجا۔ اس کے بعد آپ نے خلیفہ کے بنیادی فرائض کا تفصیلی تذکرہ کیا اور پہلے فرض تبلیغ کی اہمیت بیان کر کے متعدد تجاویز ممبران کے سامنے پیش کیں اور ان پر غور و فکر کی دعوت دی۔ اسی طرح خلیفہ کے دوسرے فرائض یعنی کتاب و حکمت کا سکھانا اور تزکیہ نفوس کا تذکرہ کیا اور وہ طریق بیان کئے جن پر عمل کر کے ان کا حصول آسان ہو جاتا ہے ۔ ان فرائض کے ذکر کے بعد آپ نے فرمایا : ” یہ خلیفہ کے کام ہیں جن کو میں نے مختصر ا بیان کیا ہے۔ ان کو کھول کر دیکھو اور ان کے مختلف حصوں پر غور کرو تو معلوم ہو جائے گا کہ انجمن کی کیا حقیقت ہے ؟ اور خلیفہ کی کیا ؟ میں یہ بڑے زور سے کہتا ہوں کہ نہ کوئی انجمن اس قسم کی ہے اور نہ ایساد عومی کر سکتی ہے نہ ہو سکتی ہے نہ خدا نے کبھی کوئی انجمن بھیجی "۔ " آپ نے غیر مبائعین کے بعض اعتراضات مثلا یہ کہ خلیفہ نے انجمن کا حق غصب کر لیا ہے ۔ یہ