انوارالعلوم (جلد 2) — Page 44
۴۴ کے واسطے تمام مکان کو چھوڑوں گا۔تب ابر هام نے جواب دیا اور کہا کہ اب دیکھو میں نے خداوند سے بولنے میں جرآت کی اگر چہ میں خاک اور راکھ ہوں۔شاید پچاس صا وقوں سے پانچ کم ہوں۔کیا ان پانچ کے واسطے تو تمام شهر کویت کرے گا اور اس نے کہا اگر میں وہاں پنتالیس پاؤں تو نیست نہ کروں گا۔پھر اس نے اس سے کہا شاید وہاں چالیس پائے جائیں۔تب اس نے کہا کہ میں پالیسی کے راستے بھی نہ کروں گا۔پھر اس نے کہا کہ میں مشت کرتا ہوں کہ اگر خداوندخفا نہ ہوں تو میں کچھ کہوں۔شاید وہاں میں پائے جائیں وہ بولا اگر میں وہاں میں پاؤں تو میں یہ نہ کروں گا۔پھر اس نے کہا د یکھے میں نے خداوند سے بات کرنے میں جرآت کی۔شاید وہاں میں پائے جائیں۔وہ بولا میں میں کے ایسے بھی اسے نیست نہ کروں گا۔تب اس نے کہا میں منت کرتا ہوں کہ خداوند خفا نہ ہوں۔تب میں فتا اب کی بار پھر کہوں شاید وہاں دس پائے جائیں۔وہ بولا میں دس کے واسطے بھی اسے نیست نہ کروں گا‘‘۔(پیدائش باب ۱۸ آیت ۲۳ تا ۳۴ مطبوعہ برٹش اینڈ فارن بائیل سوسائٹی انارکلی لا ہور۱۹۴۴ء) قرآن شریف میں اس کی نسبت فر مایا فما وجدنا فيها غير بيت من المسلمين (الذریت : ۳۷) غرض دس کے ذکر پر مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا تو کس قدر افسوس کی بات ہے کہ دس مولوی بھی نہ ملیں یہ بہت ہی رہنے اور گرد گرانے اور دعاؤں کا مقام ہے کیونکہ جب علماء نہ ہوں تو دین میں کمزوری آ جاتی ہے میں تو بہت دعائیں کرتا ہوں کہ اللہ اس نقص کو دور فرما دے۔یہ تجویز جو میں نے پیش کی ہے قرآن مجید نے ہی اس کو پیش کیا ہے چنانچ فرمایا فلؤلانفر من كل فرقة (التوبة :۱۲۲) سارے مومن تو ایک وقت اکٹھے نہیں ہو سکتے اس لئے یہ فرمایا کہ ہر علاقہ سے کچھ لوگ آویں اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے حضور رہ کر دین حاصل کر کے اپنی قوم میں جا کر انہیں سکھائیں۔بی تو میری بیلی تجویز کی اتنی قرآن مجید سے ہے یا یوں کہو کہ قرآن مجید کی ہدایت کے موانی میری پہلی تجویز ہے۔دوسری تجویز بھی قرآن مجید ہی کی ہے چنانچ فر مایا ولتکن منکم امة يدعون إلى الخير (ال عمران :۱۰۵) یہ آیت واعظین کی ایک ایسی جماعت کی تائید کرتی ہے جس کا کام بھی تبلیغ ہو۔تعلیم شرائع ان امور کے بعد پر قایم شرائع کاکام آتا ہے جب تک قوم کو شریعت سے واقفیت نہ ہو انہیں معلوم نہ ہو کہ انہوں نے کیا کرتا ہے عملی حالت کی اصلاح