انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 606 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 606

۶۰۶ حضرت ابراہیمؑ کے مباحثات درج ہیں۔حضرت موسیٰؑ کے مباحثات درج ہیں۔حضرت نوح کےمباحثات درج ہیں اور سب میں دلا ئل مذکور ہیں پس ان کی نبوت کا بھی انکار کر دینا چاہئے۔افسوس کہ اس جگہ گنجائش نہیں ورنہ قرآن کریم میں پہلے انبیاء کے جو مباحثات درج ہوئے ہیں ان میں سے بعض کی تشریح کر کے بتاتا کہ وہ کیسے بادلائل ہیں مگر تیسرے ہی پارہ میں حضرت ابراہیمؑ اور ایک بادشاہ کا مباحثہ درج ہے اسے دیکھو کہ وہ بادلا ئل ہے یا نہیں۔پھر حضرت مسیح موعود پر کیا الزام ہے کہ وہ دلیل کیوں دیتے ہیں ؟ یہ تو سخت مشکل پیدا ہو گئی کہ مخالف تو اعتراض کیا کرتے تھے کہ مرزا صاحب دلیل نہیں دیتے اس لئے صادق نہیں۔اب کچھ اپنے لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ چونکہ دلیل دیتے ہیں اس لئے آپ کی نبوت ثابت نہیں اگر کہو کہ پہلی کتابوں کے حوالوں سے کوئی بات ثابت نہیں کرنی چاہیے اور حضرت مسیح موعود اپنے دعوی ٰکے ثبوت کے لئے قرآن کریم کو پیش کرتے رہے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ انجیل میں بھی پہلے نبیوں کی کتابوں سے دلیل لی گئی ہے اور قرآن کریم نے بھی ومن قبلہ کتب موسیٰ (الاحقاف: ۱۳) کہہ کر حضرت موسیٰ کو اپنا گواہ پیش کیا ہے اور یجدونه مكتوبا عندهم في التوراة والإنجيل (الاعراف:۱۵۸) کہہ کر دونوں کتابوں کو اپنا گواہ بنایا ہے اور افمن كان على بينة (محمد۱۵) سے رسول اللہ کے دعوی کوبا دلیل ثابت کیا ہے غرض کہ یہ ایک ایسالغودعوی ٰکیا گیا ہے جس کا ثبوت نہ قرآن کریم سے نہ حدیث سےملی نہیں سکتا اور نہ عقل اسے باور کرتی ہے چونکہ کاپی کے صرف دو صفحات خالی تھے اس لئے میں نے اختصار سے کام لیا ہے اور زیادہ لکھنے میں دیر کا خطرہ ہے ورنہ میں اس پر اور مفصل لکھتا۔شاید اللہ تعالیٰ پھر موقعہ دے دے۔اصل بات یہ ہے کہ مولوی صاحب دعویٰ اور دلیل میں فرق نہیں سمجھتے۔وہ نبی کی جو تعریف کرتے ہیں اور جس کو وہ قرآن کریم سے ہرگز ثابت نہیں کر سکتے۔اسی کو انہوں نے دوسرے لفظوں میں بدل کر دلیل کے طور پر پیش کر دیا ہے اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی مدعی اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے خود ہی گواہ بن جائے اور یہ سزا ملی ہے ان کو رسول اللہ ﷺ کی باتوں کو بے دلیل کہنے کی۔خاکسار مرزا محموداحمد