انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 578

۵۷۸ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آ جائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہد تھا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے واخرین منھم لما یلحقوا بھم اور انبیاء کو اپنے بروز پر غیرت نہیں ہوتی کیونکہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا نقش ہے لیکن دوسرے پر ضرور غیرت ہوتی ہے دیکھو حضرت موسیٰ نے معراج کی رات جب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مقام سے آگے نکل گئے تو کیونکر رو رو کر اپنی غیرت ظاہر کی۔تو پھر جس حالت میں خدا تو فرمائے کہ تیرے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا اور پھر اپنے فرمودہ کے برخلاف عیسیٰ کو بھیج دے تو پھر کس قدر یہ فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دلآزاری کا موجب ہوگا۔غرض بروزی رنگ کی نبوت سے ختم نبوت میں فرق نہیں آتا اور نہ مُہر ٹوٹتی ہے لیکن کسی دوسرے نبی کے آنے سے اسلام کی بیخ کنی ہو جاتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس میں سخت اہانت ہے کہ عظیم الشان کام دجال کشی کا عیسیٰ سے ہوا نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آیت کریمہ وَلکِن رسولَ اللّهِ و خاتَمَ النَّبِیّینَ نعوذباللہ اس سے جھوٹی ٹھہرتی ہے۔اور اس آیت میں ایک پیشگوئی مخفی ہے اور وہ یہ کہ اب نبوت پر قیامت تک مُہر لگ گئی ہے اور بجز بروزی وجود کے جو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے کسی میں یہ طاقت نہیں جو کھلے کھلے طور پر نبیوں کی طرح خدا سے کوئی علم غیب پاوے اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست و پا ہے کیونکہ نبوت پر مُہر ہے۔ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا سو وہ ظاہر ہو گیا اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ بروزی طور کی نبوت اور رسالت سے ختمیت کی مُہر نہیں ٹوٹتی اور حضرت عیسیٰ کے نزول کا خیال جو !مستلزم تکذیب آیت وَلکِن رسولَ اللّهِ و خاتَمَ النَّبِیّینَ َ ہے وہ ختمیت کی مُہرکو توڑتا ہے اور اس فضول اور خلاف عقیدہ کا تو قرآن شریف میں نشان نہیں اور کیونکر ہو سکتا کہ وہ آیت ممدوحہ بالا کے صریح برخلاف ہے لیکن ایک بروزی نبی اور رسول کا آنا قرآن شریف سے ثابت ہو رہا ہے جیسا کہ آیت سے ظاہر ہے اس آیت میں ایک لطافت بیان یہ ہے کہ اس گروہ کا ذکر تو اس میں کیا گیا جو صحابہ میں سے ٹھہرائے گئے لیکن اس جگہ اس مورد بروز کا بتصریح ذکر نہیں کیا یعنی مسیح موعود کا جس کے ذریعہ سے وہ لوگ صحابہ ٹھہرے اور صحابہ کی طرح زیر تربیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سمجھے گئے۔اس ترک ذکر سے یہ اشارہ مطلوب ہے کہ مورد بروز حکم نفی وجود کا