انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 537

۵۳۷ نہ قرار دیتے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ اسے نبی سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو غیرنبی۔اس لئے اس پر اپنے آپ کو فضیلت نہ دیتے تھے۔دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ نے اپنی وحی میں نبی کے صریح لفظ کو دیکھ کر آخر کار اس عقیدہ کو بدل دیا اور مسیح پر اپنے افضل ہونے کا اعلان کیا۔ان دونوں نتیجوں کو ملائیں تو تیسرا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ واقع میں نبی تھے نہ کہ آپ کا نام نبی تھا کیونکہ آپ مسیح سے افضل ہیں اور غیرنبی نبی پر من كل الوجوه افضل نہیں ہو سکتاپ آپ فی الواقع نبی ہیں ورنہ نبی نام پانے سے کوئی شخص نبی سے افضل نہیں ہو سکتا جس کا ثبوت یہ ہے کہ جس وقت حضرت مسیح موعود حضرت مسیح ناصری سے اپنے آپ کو افضل نہیں قرار دیتے تھے اس وقت بھی نبی کے نام پانے کے مدعی تھے کیونکہ ایسے افضل نہ ہونے کا عقیدہ تریاق القلوب میں بھی درج ہے جو ۱۸۹۹ء کی تصنیف ہے اور جزوی نبی ہونے کا یانبی نام پانے کا دعویٰ توضیح مرام میں بھی موجود ہے جو ۱۸۹۱ء میں شائع ہوئی جس سے ثابت ہوا کہ صرف نام پانے والایا جزوی نبی بھی اسی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا۔اور جو شخص کی نبی سے افضل ہوگا وہ ضرور نبی ہو گا اور چونکہ حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو مسیح سے افضل کہا ہے اس لئے آپ واقع میں نبی تھے نہ کہ آپ کا نام اسی طرح نبی رکھ دیا گیا تھا جس طرح آدمی کو شیر کہہ دیتے ہیں۔پندرھویں دلیل حضرت مسیح موعوداپنی کتاب نزول المسیح کے صفحہ ۶ حاشیہ پر تحریر فرماتےہیں ’’دونوں سالوں کا تقابل پورا کرنے کے لئے یہ ضروری تھا کہ موسوی مسیح کے مقابل پر محمدی مسیح بھی شان نبوت کے ساتھ آوے تااس نبوت عالیہ کی کسرشان نہ ہو اس لئے خدا تعالی ٰنے میرے وجود کو ایک کامل ظلّیّت کے ساتھ پیدا کیا اور ظلّی طور پر نبوت محمدی اس میں رکھ دی تاایک معنی سے مجھ پر نبی اللہ کا لفظ صادق آوے اور دوسرے معنوں سے ختم نبوت محفوظ رہے۔\" (روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۳۸۲) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک سلسلہ محمدیہ الله موسویہ کا مقابلہ تبھی کر سکتا تھا کہ جس طرح اس کا آخری خلیفہ نبی تھا۔اس کا آخری خلیفہ بھی نبی ہو۔اور اگر ایسانہ ہو تو سلسلہ محمدیہؐ کی کسر شان ہے اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسی نقص کو دور کرنے کیلئے اللہ تعالی ٰنے آپ کو نبی بنایا۔اس حوالہ پر غور کرو یہ بھی حضرت مسیح موعود کی نبوت پر ایک روشن دلیل ہے کیونکہ اگر یہی مانا جائے جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے بلکہ آپ محدث تھے اور نبی آپ کا نام صرف جزوی کمالات کی وجہ سے رکھ دیا گیا تھا تومذ کوره۔