انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 32

۳۲ انجمنیں بھی جمع کر لیتی ہیں۔اگر کسی نبی یا اس کے خلیفہ کا بھی یہی کام ہو تو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ یہ سخت ہتک اور بے ادبی ہے اُس نبی اور خلیفہ کی۔یہ سچ ہے کہ ان مقاصد اور اغراض کی تکمیل کے لئے جو اس کے سپرد ہوتے ہیں اس کو بھی روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ بھی من انصاری الی اللہ کہتا ہے مگر اس سے اُس کی غرض روپیہ جمع کرنا نہیں بلکہ اِس رنگ میں بھی اُس کی غرض وہی تکمیل اور تزکیہ ہوتی ہے۔اور پھر بھی اس غرض کے لئے اس کی قائم مقام ایک انجمن یا شوریٰ ہوتی ہے جو انتظام کرے۔میں پھر کہتا ہوں کہ خلیفہ کا کام روپیہ جمع کرنا نہیں ہوتا اور نہ اس کے اغراض و مقاصد کا دائرہ کسی مدرسے کے جاری کرنے تک محدود ہوتا ہے یہ کام دنیا کی دوسری قومیں بھی کرتی ہیں۔خلیفہ کے اس قسم کے کاموں اور دوسری قوموں کے کاموں میں فرق ہوتا ہے وہ ان امور کو بطور مبادی اور اسباب کے اختیار کرتا ہے یا اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے دوسری قومیں اس کو بطور ایک اصل مقصد اور غایت کے اختیار کرتی ہیں۔حضرت صاحب نے جو مدرسہ بنایا اس کی غرض وہ نہ تھی جو دوسری قوموں کے مدرسوں کی ہے۔پس یاد رکھو کہ خلیفہ کے جو کام ہوتے ہیں وہ کسی انجمن کے ذریعہ نہیں ہو سکتے۔اس قومی اجتماع کی کیا غرض ہےاب آپ کو جو بلایا گیا ہے تو خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ میں ان کاموں کے متعلق جو خدا نے میرے سپرد کر دیئے ہیں آپ سے مشورہ کروں کہ انہیں کس طرح کروں۔میں جانتا ہوں اور نہ صرف جانتا ہوں بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ آپ میری ہدایت اور رہنمائی کرے گا کہ مجھے کس طرح ان کو سرانجام دینا چاہئے۔لیکن اُسی نے مشورہ کا بھی تو حکم دیا ہے۔یہ کام اُس نے خود بتائے ہیں، اُس نے آپ میرے دل میں اس آیت کو ڈالا جو میں نے پڑھی ہے۔پرسوں مغرب یا عصر کی نماز کے وقت یکدم میرے دل میں ڈالا۔میں حیران تھا کہ بُلا تو لیا ہے کیا کہوں۔اِس پر یہ آیت اُس نے میرے دل میں ڈالی۔پس یہ چار کام انبیاء اور ان کے خلفاء کے ہیں ان کے سرانجام دینے میں مجھے تم سے مشورہ کرنا ہے میں اب ان کاموں کو اور وسیع کرتا ہوں۔چار نہیں بلکہ آٹھ میں اس آیت کی ایک اور تشریح کرتا ہوں جب ان پر میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ ان چار میں اور معنی پوشیدہ تھے اور اس طرح پر