انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 461

۴۶۱ کیونکہ اس وقت تک نبی کی تعریف کسی اور انسان پر صادق نہیں آتی۔ہم جو کچھ کہتے ہیں۔حضرت صاحب کی کتب سے کہتے ہیں۔اور قرآن کریم اس کی تائید کرتاہے۔اور ہمارے خلاف جو کچھ کہا جا تا ہے وہ محض عقائد عوام اور ظنیات کی بناء پر ہے۔ورنہ قرآن کریم سے اور احادیث سے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔اور نہ حضرت مسیح موعود کے آخری مذہب کے مطابق ہے جو خدا تعالیٰ کے علم سے آپ نے ظاہر فرمایا۔پس حق وہی ہے جو ہم نے کہا اور جس کے ثبوت میں اوپر پیش کر آیا ہوں۔اب جس کا جی چاہے قبول کرے اور جس کا جی چاہے ردکرے۔اور حق کے مقابلہ کا عذاب اپنے اوپر وارد کرے اور صداقت کا مقابلہ کر کے مورد عتاب ہو۔وما علينا البلاغ۔میری پہلی تحریر پر اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ اگر جس طرح تم کہتے ہو۔حضرت مسیح موعودؑنے ۱۹۰۱ء میں اپنے عقیده متعلقہ نبوت میں کوئی تبدیلی کی تھی تو کیوں آپ نے اعلان نہ فرمایا کہ پہلے میں نے یوں لکھا تھا۔لیکن اب اس کے خلاف مجھ پر ظاہر ہوا ہے۔اور چونکہ آپ نے ایسا نہیں کیا۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ آپ نے اپنے عقیدہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔اور یہ آپ کا خیال ہی خیال ہے واقعہ نہیں۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ جبکہ حضرت مسیح موعودؑ کی شائع شدہ تحریر موجود ہے۔جس میں آپ نے اسلام کی اصطلاح میں شریعت لانے والے یا براہ راست نبوت پانے والے کو نبی قرار دیا ہے۔اور یہ تحریر ۱۹۰۱ء سے پہلے کی ہے اوراسی طرح آپ کی وہ تحریر بھی موجود ہے جس میں آپ اسلام قرآن بلکہ خود خداتعالی ٰکی بتائی ہوئی اصطلاح میں نبی کی تعریف صرف فلا يظهر على غيبه أحدا ( الجن : ۲۶) کی آیت کے مفہوم کو قرار دیتے ہیں۔اور لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک تونبی اسی کو کہتے ہیں جس میں یہ باتیں ہوں شریعت لانایا متبع نہ ہونا ضروری نہیں۔اور حقیقت الوحی میں خود لکھتے ہیں کہ تریاق القلوب کے زمانہ کے بعد آپ کے خیالات میں ایک تبدیلی ہوئی تو کیا اس قدر دلائل ایک حق پسند کو تسلی دلانے کے لئے کافی نہیں۔کیا یہ ممکن ہے کہ اسلام کی اصطلاح میں نبی کے لئے شریعت جدید ہ کا لانا ضروری بھی ہو۔اور اسلام کی اصطلاح میں اور قرآن کریم میں اور خداتعالی ٰکے الہامات میں اسے ضروری نہ بھی قرار دیا جائے کیا یہ دونوں ضد یں ایک وقت میں جمع ہو سکتی ہیں۔ضرور ہے کہ اگر پہلی بات درست ہو تو دو سری درست نہ ہو۔اور اگر دوسری بات درست ہو تو پہلی درست نہ ہو۔اور جبکہ خود حضرت مسیح موعود نے لکھ دیا ہے کہ جہاں میں نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے ان معنوں کی رو سے کیا ہے کہ میں کوئی شریعت جدیدہ نہیں