انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 460

۴۶۰ لحاظ سے ایک ہیں آگے نبیوں کے درجوں میں فرق ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے۔نبوت کے لحاظ سے جیسے حضرت یحیٰی نبی ہیں ویسے ہی ہمارے آنحضرت ﷺ نبی ہیں۔لیکن درجہ اور کمالات کے لحاظ سےآنحضرت ﷺکا مقابلہ حضرت یحییٰ ہرگز نہیں کر سکتے۔اسی طرح نبوت کے لحاظ سے حضرت مسیح ناصری اور حضرت مسیح موعودؑ دونوں نبی ہیں۔فیضان پانے کے لحاظ سے حضرت مسیح ناصری نے براہ راست فیضان پایا ہے۔اور حضرت مسیح محمدیؐ نے محمد ﷺ کی اتباع سے سب کچھ حاصل کیا ہے۔پھر درجہ کے لحاظ سے اور قرب الہٰی کے لحاظ سے حضرت مسیح محمدی ؐکا حضرت مسیح ناصری بالکل مقابلہ نہیں کرسکتے۔ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلامِ احمد ؐہے غرض نبیوں میں جو فرق ہے وہ ہمارے نزدیک نبوت سے تعلق نہیں رکھتا۔بلکہ وہ بعض خصوصیات کی وجہ سے ہے۔اس کے مخالف بعض لوگ ان تین شرائط کے پائے جانے کا نام نبوت نہیں رکھتے اور ان کے علاوہ اور شرائط مقرر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نبی کے لئے یا تو شریعت جدید ہ لانا ضروری ہے یابلاواسطہ نبوت پانا۔اور اگر ان دونوں شرائط کے علاوہ کوئی اور شرط بھی لگاتے ہوں تو اس کا مجھے علم نہیں۔اور چونکہ یہ شرائط حضرت مسیح موعود میں نہیں پائی جائیں۔اس لئے ان کے نزدیک حضرت مسیح موعودنبی نہیں۔بلکہ صرف محدث ہیں۔اور ہم بھی کہتے ہیں کہ اگر نبوت کی تعریف یہی ہے تو بے شک حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے۔اور جن کے نزدیک یہ تعریف درست ہے۔اگر وہ مسیح موعود کو نبی کہیں۔تو یہ ایک خطرناک گناہ ہے کیونکہ شریعت جدیدہ کا آنا قرآن کریم کے بعد ممتنع ہے اور بلاواسطہ نبوت کا دروازہ آنحضرت ﷺ کے بعد مسدودہے۔پس جن لوگوں کے نزدیک تعریف نبوت یہ ہے نہ وہ جو ہم بیان کرتے ہیں۔وہ حضرت مسیح موعود کو دیگر محدثین میں شامل کرتے ہیں۔گو کسی قدر بڑے درجہ کا محدث کہتے ہیں اور ہم چونکہ اس کے خلاف تعریف کرتے ہیں۔اور وہ اس امت میں کسی اور انسان پر بجز حضرت مسیح موعود کے صادق نہیں آتی۔اس لئے ہم اس امت میں صرف ایک ہی نبی کے قائل ہیں آئندہ کا حال پردہ غیب میں ہے۔اس کی نسبت ہم کچھ کہ نہیں سکتے آئندہ کے متعلق ہر ایک خبر پیشگوئی کارنگ رکھتی ہے اس پر بحث کرنا انبیاء کا کام ہے نہ ہمارا۔پس ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی نہیں گذرا۔