انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 427

۴۲ اقول صاحب انصاف طلب کے بیان میں لیکن ان کے پہلے ہی قول شریف میں تناقض پایا جاتا ہے۔کیونکہ ایک طرف تو وہ بہت ہی حق پسند بن کر نہایت مہربانی سے فرماتے ہیں کہ مسلمان کو کافر کہنازیبا نہیں اور پھر دوسری طرف اسی منہ سے میری نسبت رائے ظاہر کرتے ہیں کہ گویا میری جماعت در حقیقت مجھے رسول اللہ جانتی ہے اور گویا میں نے در حقیقت نبوت کا دعویٰ کیا ہے اگر راقم صاحب کی پہلی رائے صحیح ہے کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہوں۔تو پھریہ دوسری رائےغلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں خود نبوت کامدعی ہوں۔اور اگر دوسری رائے صحیح ہے تو پھر وہ پہلی رائے غلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف کو مانتا ہوں۔کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے۔اور کیا ایساوہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ولكن رسول الله وخاتم البین کو خدا کاکلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اورلغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں مگر میں اسکو بھی پسند نہیں کر تاکہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کا احتمال ہے لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جلشانہ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجه مأمور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مرسل یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے ۳۴۔وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے۔اور اصل حقیقت جس کی میں علىٰ رؤوس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبي ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا- ومن قال بعد رسولنا وسيدنا انی نبی اورسول على وجه الحقيقة والافتراء وترك القران و احكام الشريعة الغراء وھو کافر كذاب غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت ﷺ کے دامن فيوض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہو کر آپ ہی براہ راست نبی الله بننا چاہتا تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے گا اور عباد ات کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کردے گا۔پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ؎۳۵ ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں