انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 421

۴۳ منذرات کے جو امور غیبیہ سے ہوتے ہیں یا قرآنی طائف اور علوم لدنیہ کے اور وہ نبوت جو تامہ ہے کاملہ ہے۔اور جس میں وحی کے سب قسم کے کمالات جمع ہوتے ہیں۔ہم اس کے منقطع ہونے پرایمان لاتے ہیں۔صفحہ ۹ پر کتاب چشمئہ معرفت سے \" ہم خد اکے ان کلمات کو جو نبوت یعنی پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے اسم سےموسوم کرتے ہیں۔اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیشگوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں۔یعنی اس قدرکہ اس کے زمانہ میں اس کی کوئی نظیر نہ ہو۔اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں کیونکہ نبی اس کو کہتے ہیں جوخدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الہٰیہ کے قائل ہیں لیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو جو بکثرت پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے نام سے موسوم نہیں کرتے‘‘۔(روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۸۹ چشمہ معرفت صفحہ ۱۸۰ - ۱۸۱ ) قرآن شریف مکالمہ الہیٰہ کے سلسلہ کو بند نہیں کرتا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ یعنی خدا جس پر چاہتا ہے اپنا کلام نازل کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا یعنی مؤمنوں کے لئے مبشرالہام باقی رہ گئے ہیں گو شریعت ختم ہوگئی ہے کیونکہ عمر دنیا ختم ہونے کو ہے پس خدا کا کلام بشارتوں کے رنگ میں قیامت تک باقی ہے۔‘‘ (روحانی خزائن جلد ۲۳ سنہ ۱۸۸ چشمہ معرفت کا حاشیہ ) تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں۔۔۔۔مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں لیکن وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نورلیتی ہے۔(روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ۳۴۰)’’اور خدا کا پیار یہ ہے کہ۔۔۔اس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرتا ہے۔یہ اس لئے کہ اسلام ایسے لوگوں کے وجود سے تازہ رہے۔نبوت اور رسالت کالفظ خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں میری نسبت صد ہا مرتبہ استعمال کیا ہے۔مگر اس لفظ سے صرف دہ مکالمات و مخاطبات الٰہیہ مراد ہیں جو بکثرت ہیں اور غیب پر مشتمل ہیں‘‘( چشمہ معرفت ۳۲۵ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۰۔۳۴۱) مولوی صاحب نے اسی قدر حوالہ دیا ہے اس سے آگے کی عبارت ترک کر دی ہے۔لیکن ہم وہ ذیل میں درج کردیتے ہیں۔’’اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ہر ایک اپنی اصل میں ایک اصطلاح اختیار کر سکتا ہے۔لکل ان یصطلح ، سوخدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکا لمات مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے *چشمہ معرفت صفحہ ۳۲۴