انوارالعلوم (جلد 2) — Page 419
۴۱۹ نہیں۔جس سے معلوم ہوا کہ ان کے بغیر بھی انسان نبی ہو سکتا ہے۔اور یہ بھی کہ جن باتوں کا مفہوم نبوت سے کوئی تعلق نہیں مثلا ًیہ کہ بلا واسطہ نبی ہو نا۔اگر وہ سارے نبیوں میں پائی جائیں لیکن ایک شخص میں نہ پائی جائیں۔تب بھی اس کی نبوت میں کوئی نقص لازم نہیں آتا۔اور آخر میں یہ کہ اگر خصوصیات کے اظہار کے لئے بعض الفاظ زائد کردیئے جائیں۔تو ان سے یہ مطلب نہیں ہوا کرتا کہ نفس درجہ میں کوئی فرق آگیا بلکہ صرف خصومیت بتانی مد نظر ہوتی ہے اور ان باتوں کی تائید کے لئے میں نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتابوں سے بعض حوالے بھی نقل کر دیے ہیں جن سے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلؤ تو اسلام کے نزدیک بھی نبی کی وہی تعریف ہے جو میں نے قرآن کریم اور لغت عرب سے استنباط کر کے لکھی ہے۔اور آپ اسی تعریف کو خدا تعالیٰ کی تعریف، قرآن کریم کی تعریف،نبیوں کی تعریف، اسلام کی تعريف، لغت کی تعریف قرار دیتے ہیں۔اور یہ تعریف خدا کے حکم کے مطابق کرتے ہیں اور چونکہ پہلے نہایت وسعت سے میں یہ سب مضمون بیان کر آیا ہوں۔اس لئے اس جگہ ان ہی مختصر الفاظ میں ان کا ذکر کر دینا کافی ہو گا۔اور جو شخص ان باتوں کو سمجھ لے گا اس کے لئے نبوت کا مسئلہ بالکل آسان ہو جائے گا۔اب میں مولوی صاحب کے وہ حوالے نقل کرتا ہوں۔جن سے ان کے خیال میں حضرت مسیح موعود کی نبوت نبیوں کی سی نبوت نہیں رہتی بلکہ محدثین کی سی نبوت ثابت ہوتی ہے اور جن حوالوں سے انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ حضرت مسیح موعود کاد عویٰ شروع سے ایک ہی قسم کی نبوت کا رہا ہے کبھی تبدیل نہیں ہوا۔کیونکہ آپ نے جو کچھ توضیح مرام میں جو آپ کی دعویٰ مسیحیت کے بعد پہلی کتاب ہے۔لکھا ہے وہی آخر کی کتابوں میں لکھا ہے۔اس بات کے متعلق تو میں پہلے مفصل جواب دے آیا ہوں کہ حضرت صاحب نے اپنے مذہب میں کوئی تبدیلی کی ہے یا نہیں۔ہاں اس بات کا جواب کہ وہ کیا تبدیلی تھی آگے چل کر انشاء اللہ دوں گا۔بہرحال جناب مولوی صاحب حوالہ جات پیش کرتے ہیں:( صفحہ۴ پر کتاب توضیح مرام سے) " ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے۔اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہو تا ہے کیونکہ وہ خداتعالی ٰسے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔امورغیبی اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں۔اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزّہ کیا جا تا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے۔اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں *گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں مگرتاہم جزوی طور پروه ایک نبی ہی ہے۔۔