انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 417

14 نہیں پائی جاتی۔اب میں نبوت کی ایک جامع مانع تعریف کر چکا ہوں جس تعریف کی بناء پر کسی نبی کی نبوت سے انکار نہیں کرنا اور سب نبی اس تعریف میں جمع ہوجاتے ہیں اسی طرح یہ تعریف ایسی ہے کہ کوئی غیرنبی اس تعریف کے ہوتے ہوئے نبیوں کے گروہ میں ناجائز طور سے شریک نہیں ہو سکتا۔پس یہ تعریف جامع اور مانع ہے اور جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں خدائے تعالیٰ، نے قرآن کریم نے، کل نبیوں نے، اسلام نے، حضرت مسیح موعودؑنے ،اور لغت نے نبی یہی تعریف کی ہے اور جس پر تعریف صادق آئے اس کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں اور جو اس تعریف کے صادق آنے کےباوجود پھر بھی ایک شخص کی نبوت کا انکار کرتا ہے وہ نادانی کے انتہائی نقطہ کو پہنچا ہواہے۔میں اس جگہ ایک اور شبہ کا ازالہ کر دینا بھی ضروری خیال کرتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ جو کچھ تم نے لکھا ہے اس سے یہ تو ثابت ہو جاتا ہے کہ نبی کے لئے وہ شرائط ہیں جو تم نے اوپر بیان کیں لیکن یہ کیونکر ثابت ہو کہ ان کے علاوہ اور کوئی شرط نہیں۔ممکن ہے کہ شریعت کا لانا یا بلا واسطہ نبوت کا ملنا بھی نبی ہونے کے لئے شرط ہو۔لیکن یہ شبہ بھی پہلے شبہ کی طرح بےبنیاد ہو گا اس لئے کہ جو تعریف نبی کی میں اوپر کر چکا ہوں اس سے ثابت ہے کہ امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانا غیرنبی میں پایاہی نہیں جاتا پس جب ایک شخص کی نسبت ثابت ہو جائے کہ اسے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی ہے تو وہ بہرحال نبی ہو گا کیونکہ یہ بات مطابق ارشاد الہٰی غیر نبی میں پائی ہی نہیں جاتی جس سے معلوم ہوا کہ یہ شرط جہاں پائی جائے (مع اس تفصیل کے جو اس کے ساتھ مذکور ہوئی) وہاں نبوت ضرور پائی جائے گی۔پس جس شخص کو اظہار على الغيب کا رتبہ ملے اسے کسی اور بنا ء پر نبیوں کی جماعت سے خارج نہیں کر سکتے۔دوسرے یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ’’ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبرپانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہٰیہ سے مشرف ہو۔شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ ہی ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کامتبع نہ ہو ‘‘(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۰۶) پھر فرماتے ہیں’’نبی کا شارع ہونا شرط نہیں یہ صرف موہبت ہے جس سے امور غیبیہ کھلتے ہیں‘‘( ایک غلطی کا ازالہ ) اسی طرح شہادت القرآن صفحہ ۴۴ میں فرماتے ہیں \" بعد توریت کے صدہاسےنبی بنی اسرائیل میں سے آۓ کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی بلکہ ان انبیاء