انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 376

۳۷۹ اعتراض بنالو۔آخر وہ شخص جس طرح ہمارا سردار ہے تمہارا بھی سردار ہے۔اس کے کلام کی وہ تفسیر کیوں کرتے ہو؟ جس سے اس پر اعتراضوں کی بوچھاڑ شروع ہو جائے۔اور اس کے دعویٰ اور اس کے تقوی ٰمیں شبہات پیدا ہو جائیں۔تم اپنے بچاؤ کے لئے مسیح موعود کی تحریروں کو بدلتے ہو۔اور اسے دنیا کی نظرمیں ادنیٰ ثابت کرتے ہو۔خوب یاد رکھو کہ عزت وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے نہ وہ کہ لوگ دیں۔دنیاکیا دے سکتی ہے کچھ بھی نہیں۔جو کچھ خدادے سکتا ہے اور کوئی نہیں دے سکتا۔دلوں پر الله تعالی کی ہی حکومت ہے۔اور جو شخص اللہ تعالی سے تعلق پیداکرے۔اللہ تعالی اس کی حکومت دلوں پر قائم کرتا ہے۔اور خود سعیدوں کے دل میں اس کی محبت پیداکردیتا ہے۔پس اس محبت کی قدر کرو جو سعید روحوں سے حاصل کر سکتے ہو۔خواہ پھٹے ہوئے کپڑوں اور میلے چیتھڑوں کے اندرہی وہ ارواح کیوں مخفی نہ ہوں۔ایک صادق دوست ہزارہا منافق واہ واہ کرنے والوں سے بہتر ہو تاہے کیونکہ یہ خوشی اور راحت میں تعریف کرتے ہیں اور وہ رنج و غم میں جان دینے سے دریغ نہیں کر تا پس مسیح موعود کے کلام کے وہ معنی نہ کرو۔جن پر دشمن کوہنسی کا موقع ملے۔اور توبہ کرو کہ توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔سنو حضرت مسیح موعود ؑکا یہ کلام صاف ہے آپ کو براہین کے زمانہ سے جو وحی ہو رہی تھی اس میں آپ کو ایک دفعہ بھی مسیح سے کم نہیں کہا گیا بلکہ افضل بتایا گیا تھا لیکن آپ چونکہ اپنے آپ کو غیرنبی سمجھتے تھے اس کے معنی اور کرتے رہے۔حتیّٰ کہ تریاق القلوب کے وقت بھی آپ کے یہی خیالات تھے۔لیکن جب بعد کی و حیوں نے آپ کی توجہ اس طرف پھیری کہ ان و حیوں کا یہی مطلب تھا کہ آپ مسیحؑ سے افضل اور نبی ہیں تو آپ نے تیئس سال کی وحی کو قبول کیا۔پس یہ دونوں بات درست ہیں۔یہ بھی کہ آپ کی تیئس سال کی وحی میں مسیح پر افضیت کا اظہار تھا۔اور یہ بھی کہ آپ تریاق القلوب کے وقت تک حضرت مسیح کو افضل قرار دیتے تھے۔اور بعد میں اس عقیدہ میں تبدیلی کی پہلی بات اس لئے درست ہے کہ واقعہ میں ہمیشہ سے وحی الہیٰ میں آپ کو صاف نبی کا خطاب دیا گیا تھا۔اور دوسری اس لئے کہ آپ تریاق القلوب کے وقت تک اس وحی کی تاویل کرتے رہے۔جناب مولوی محمد علی صاحب کے بعض اعتراضوں کا جواب مولوی محمد علی صاحب نے اپنے رسالہ میں اس خیال کے خلاف کم تریاق القلوب کے کسی