انوارالعلوم (جلد 2) — Page 357
۳۵۷ میں مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہوں اور مجھے اس پر ہر طرح سے فوقیت حاصل ہے۔کیا ایسےانسان کو جو کچھ بھی اردو جانتا ہو یہ دونوں عبار تیں پڑھوا کر دیکھ لو۔وہ ضرور دونوں عبارتوں کےاختلاف کو تسلیم کرے گا۔اور جب تک ضد و تعصب سے اند ھانہ ہو جائے وہ ان دونوں عبارتوں کے مفہوم کو ایک نہیں کہہ سکتاپس اختلاف تو ثابت ہے اور اس کے وجود میں کوئی شک نہیں۔اب سوال ہی رہ جاتا ہے کہ یہ اختلاف کیسا اختلاف ہے؟ کیونکہ اختلاف دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک اختلاف ظاہری ہوتے ہیں جن سے اس کلام کرنے والے یا اس تحریر کے لکھنے والے پر کوئی الزام نہیں آتا صرف ظاہری شکل میں دو قولوں میں اختلاف ہوتا ہے۔اور ایک ایسے اختلاف ہوتے ہیں کہ جس کے کلام میں وہ پائے جائیں اس پر الزام جھوٹ کا آتا ہے اور اس کے متعلق مسائل حضرت مسیح موعود ؑسے سوال کرتا ہے کہ آپ کی دو تحریروں میں اختلاف ہے اور وہ دونوں تحریر یں نقل کرتا ہے اور پھر پوچھتا ہے کہ اس اختلاف کی کیا وجہ ہے؟ یعنی اسے کیوں نہ آپ کےکذب کی علامت قرار دیا جائے۔نعوذباللہ من ذالک۔اس کے جواب میں حضرت صاحب دو باتیں فرماسکتے تھے۔اول یہ کہ کوئی اختلاف نہیں تم غلط کہتے ہو دوم یہ کہ اختلاف تو ہے لیکن وہ اختلاف نہیں جس سے جھوٹ کا الزام ثابت ہو تا ہو بلکہ حالات کے تغیر کی وجہ سے اختلاف پیدا ہؤا ہے اگرحضرت مسیح موعودؑیہ جواب دیتے کہ کوئی تناقض نہیں ان دونوں حوالوں کا مطلب ایک ہی ہے تب بھی گودشمن اس پرہنستا یا اعتراض کرتا۔ہم پر حضرت مسیح موعودؑ کی تشریح کا قبول کرنا ضروری تھا لیکن حضرت مسیح موعود ؑنے ایسا نہیں کیا بلکہ اس کے تناقض کو قبول کیا ہے جیسا کہ فرماتے ہیں کہ ’’رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں یہ تناقض کیوں پیدا ہو گیا؟ سواس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اس قسم کا تنا قض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہو گا۔مگر بعد میں نے لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں؟ (حقيقةۃالوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۲،۱۵۳ ) پس جبکہ دونوں حوالوں کی عبارت سے صاف تناقض ظاہر ہو رہا ہے۔اور حضرت مسیح موعوداس تناقضی کو قبول کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تناقض تو ہے مگر یہ تناقض ایک ایسے اختلاف کےطور پر نہیں جو میرے کذب پر شاہد ہو۔بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے میرا عقیدہ اجتہاد تھا اور بعدمیں اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی سے مجھے اس عقیدہ سے پھرنا پڑا۔تو یہ کیسی دلیری ہے کہ ایسی صاف عبارتوں کے ہوتے ہوئے اور حضرت مسیح موعودؑ کے اس تناقض کو قبول کرتے ہوئے کوئی شخص یہ