انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 18

۱۸ اب کون ہے جو مجھے خلافت سے معزول کر سکے۔خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے اور خدا تعالیٰ اپنے انتخاب میں غلطی نہیں کرتا۔اگر سب دنیا مجھے مان لے تو میری خلافت بڑی نہیں ہو سکتی۔اور اگر سب کے سب خدانخواستہ مجھے ترک کر دیں تو بھی خلافت میں فرق نہیں آ سکتا۔جیسے نبی اکیلا بھی نبی ہوتا ہے اسی طرح خلیفہ اکیلا بھی خلیفہ ہوتا ہے۔پس مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلہ کو قبول کرے۔خدا تعالیٰ نے جو بوجھ مجھ پر رکھا ہے وہ بہت بڑا ہے اور اگر اُسی کی مدد میرے شامل حال نہ ہو تو میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔لیکن مجھے اُس پاک ذات پر یقین ہے کہ وہ ضرور میری مدد کرے گی۔میرا فرض ہے کہ جماعت کو متحد رکھوں اور انہیں متفرق نہ ہونے دوں اس لئے ہر ایک مشکل کا مقابلہ کرنا میرا کام ہے اور اِنْشَائَ اللّٰہُ آسمان سے میری مدد ہوگی۔میں اس اعلان کے ذریعہ ہر ایک شخص پر جو اَب تک بیعت میں داخل نہیں ہوا یا بیعت کے عہد میں متردّد ہے حُجت پوری کرتا ہوں اور خدا کے حضور میں اب مجھ پر کوئی الزام نہیں۔خدا کرے میرے ہاتھ سے یہ فساد فرو ہو جائے اور یہ فتنہ کی آگ بُجھ جائے تا کہ وہ عظیم الشان کام جو خلیفہ کا فرضِ اوّل ہے یعنی کل دنیا میں اپنے مُطاع کی صداقت کو پہنچانا میںاُس کی طرف پوری توجہ کر سکوں۔کاش! میں اپنی موت سے پہلے دنیا کے دور دراز علاقوں میں صداقتِ احمدیہ روشن دیکھ لوں۔وما ذالک علی اللہ بعزیز(ابراہیم۔۲۱) مجھے اپنے ربّ پر بہت سی امیدیں ہیں اور میں اس کے حضور میں دعاؤں میں لگا ہوا ہوں اور چاہیے کہ وہ تمام جماعت جو خدا کے فضل کے ماتحت اس ابتلاء سے محفوظ رہی ہے اس کام میں میری مدد کرے اور دعاؤں سے اس فتنہ کی آگ کو فرو کرے۔اور جو ایسا کریں گے خدا کے فضل کے وارث ہو جائیں گے اور میری خاص دعاؤں میں ان کو حصہ ملے گا۔میرے پیارو! آجکل نمازوں میں خشوع و خضوع زیادہ کرو اور تہجد کے پڑھنے میں بھی سُستی نہ کرو۔جو روزہ رکھ سکتے ہیں وہ روزہ رکھیں اور جو صدقہ دے سکتے ہیں وہ صدقہ دیں۔نہ معلوم کس کی دعا سے، کس کے روزے سے، کس کے صدقہ سے خدا تعالیٰ اِس اختلاف کی مصیبت کو ٹال دے اور احمدی جماعت پھر شاہراہِ ترقی پر قدم زَن ہو۔خوب یاد رکھو کہ گو اکثر حصہ جماعت بیعت کر چکا ہے مگر تھوڑے کو بھی تھوڑا نہ سمجھو کیونکہ ایک باپ یا ایک بھائی کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کے دس بیٹوں یا بھائیوں میں سے ایک بھی جدا ہو جائے پس ہم کیونکر پسند کر سکتے ہیں کہ ہمارے بھائیوں میں سے بعض کھوئے جائیں خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔پھر میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ فتنہ کی مجلسوں میں مت بیٹھو کیونکہ ابتداء میں انسان کا