انوارالعلوم (جلد 2) — Page 268
۲۶۸ کے پکارا ہے۔سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا" (اشتہار ایک غلطی کا از الہ صفحہ ۶،۷، روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۲۱۰ ،۲۱۱ ) آپ کی ان تحریرات سے صاف نتیجہ تا ہے کہ آپ نے اپنے نبی ہونے سے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ جب انکار کیا ہے لوگوں کی اس خود ساختہ اصطلاح سے کیا ہے جو آج کل کے مسلمانوں میں عام طور پر رائج ہو گئی ہے اور وہ یہ کہ نبی وہی ہوتا ہے جو شریعت لائے یاجس کی نبوت بلاواسطہ ہو اور جوکسی کی امت میں نہ ہو پس خود حضرت موعودؑ کی تشریحات کے مطابق حضرت مسیح موعودؑ اس قسم کے اصطلاحی نبی ہونے سے انکار کرتے ہیں جو عوام کے خیالات کے مطابق نبی کہلا سکتا ہے اور اس کی وجہ یہ پیش آئی کہ اگر آپ بغیر تشریح کے نبی کا دعویٰ کرتے تو عوام میں جو غلط خیالات پھیلے ہوئے تھے کہ نبی یا تو شریعت لائے یا یہ کہ ہر ایک پہلے نبی سے اس کی نبوت آزاد ہو ان کے مطابق وہ لوگ آپ کے دعوی ٰکا مفہوم سمجھ لیتے اور اس طرح ان کو خواہ مخواہ دھوکا لگتا۔پس آپ نے تشریح کرکے بتایا کہ میں تمهارا اصطلای نبی تو نہیں ہوں۔مگر خدا تعالیٰ کی اصطلاح کے مطابق نبی ہوں۔جیسا کہ آپ اپنی نبوت کے متعلق فرماتے ہیں کہ : ’’ہر ایک شخص اپنی گفتگو میں ایک اصطلاح اختیار کر سکتا ہے لك أن يشل سوخدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے“ (چشمه معرفت صفحہ ۳۲۶روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۱) اسی طرح فرماتے ہیں کہ نبیوں کی اصطلاح کے رو سے بھی میں نبی ہوں۔جیسا کہ فرماتے ہیں:۔”اور جبکہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو۔اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہو تا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے“۔(الوصیت صفحہ ۱۳ ، روحانی خزائن جلد۲۰صفحہ ۳۱۱) اسی طرح فرماتے ہیں کہ میں قرآن کریم کی اصطلاح کے مطابق نبی ہوں:۔’’جس کے ہاتھ پر اخبارغیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرور اس پر مطابق آیت نلايظهر على غيبه (الجن :۲۷) کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔اسی طرح جو خداتعالی ٰکی طرف سے بھیجا جائے گااسی کو ہم رسول کہیں گے (" اشتہار ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۴ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۸) اسی طرح آپ کی تحریرات سے ثابت ہے کہ پہلے انبیاء بھی اسی لحاظ سے نبی اور رسول