انوارالعلوم (جلد 2) — Page 265
۲۶۵ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم القول الفصل مجھے آج اکیس جنوری ۱۹۱۵ء کی شام کو خواجہ کمال الدین صاحب کا ایک رسالہ جو پچھلےدسمبر میں احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کی طرف سے چھاپ کر شائع کیا گیا ہے اور تمام احمدی جماعت میں مفت تقسیم کیاگیاہے پڑھنے کا موقعہ ملاہے۔گو اس میں وہی باتیں دہرا دی گئی ہیں جن کا جواب بارہا ہماری طرف سے دیا جا چکا ہے لیکن چونکہ خواجہ صاحب چھ ماہ کے ایام کے بعدآئے ہیں اور ہندوستان آکر ان کا یہ پہلا وار ہے جو انہوں نےہ ماری جماعت پر کیا ہے یا کم سے کم یہ ٹریکٹ اس لحاظ سے پہلا ہے کہ اس میں انہوں نے دلا ئل دینے کی بھی کوشش کی ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ مختصراً اس ٹریکٹ کا جواب دے دیا جائے۔گو مجھے اس رسالہ کے پڑھنے کادیر سے موقع ملا ہے اور اب ایک ماہ کے قریب اس کی اشاعت پر گذر گیا ہے لیکن چونکہ خواجہ صاحب اور ان کے دوست اس مضمون پر خاص فخر محسوس کرتے ہیں جو اس رسالہ میں درج ہے اس لئے محققین کو اصل واقعات سے واقف کرنے کے لئے میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ اس کا جواب لکھ دوں۔مزید تاخیر کو روکنے کے لئے میں نے اسی تاریخ کو صبح سے شام تک بیٹھ کر سارے رسالے کا جواب لکھ دیا ہے اور میں نے اس وقت تک کسی اور غیر ضروری کام کو ہاتھ میں لگایا جب تک اس کو پورا نہ کر لیا ہو۔اور میں امید کرتا ہوں کہ صداقت کی طالب رد حیں اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گی۔اس ٹریکٹ کے ۷۵ صفات ہیں اور عام طور پر سارے ٹریکٹ میں اعتراض ہی اعتراض ہیں اور مختصرسے اعتراض کا جواب بھی اعتراض سے کسی قدر لمباہی ہو تا ہے لیکن چونکہ ان مباحث پر جن پر خواجہ صاحب نے قلم اٹھایا ہے پہلے کافی بحث ہو چکی ہے اس لئے میں یا تو انہی اعتراضات کا