انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 253

۲۵۳ لئے ایسے ذرائع مہیا نہیں کر سکے گا جن کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے اس قسم کے ڈر سے محفوظ ہو جائے جیسا کہ انسان کو اگر کوئی چیز مضر لگتی ہے تو وہ ہمیشہ کے لئے اس کے دور کرنے کے ذرائع سوچتا رہتاہے۔لیکن حیوان میں ایجاد اور ترقی کا مادہ نہیں ہے اس قسم کے انسانوں کی نسبت اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَاط اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ۔(الاعراف :۱۸۰)ان کے دل ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان کو کام میں نہیں لاتے۔ان کے کان ہیں مگر وہ ان سے نفع نہیں اٹھاتے۔یہ تو سب کچھ ان کے پاس ہے لیکن ان کے پاس عقل انسانی نہیں بلکہ حیوانی عقل ہے۔یہ خوف سے بھاگ تو جاتے ہیں لیکن اپنے آئندہ کے بچاؤ کے لئے کوئی صورت نہیں نکال سکتے۔یعنی یہ کسی خوف اور ڈر کے وقت تو خدا تعالیٰ کے حضور میں گر پڑتے ہیں اور اس دکھ سے محفوظ ہو جاتے ہیں لیکن ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو محفوظ نہیں کر سکتے بلکہ جب کبھی ان پر مصیبت پڑتی ہے اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔چوتھا درجہ :جب اس سے زیادہ احساس پیدا ہوتا ہے تو انسان ایک اور درجہ میں ہوتا ہے اور یہ درمیانی درجہ ہے کیونکہ تین درجے اس سے نیچے ہیں اور تین ہی اوپر ہیں۔اس درجہ میں انسان کو ایک حد تک احساس پیدا ہو جاتا ہے اور یہ سب کام سمجھ اور ہوش سے کرتا ہے مگر کبھی کبھی اس پر شیطان بھی غلبہ کر لیتا ہے۔یعنی کبھی اسے بدی اپنی طرف کھینچ لے جاتی اور کبھی نیکی۔ہاں بدی کا حملہ اس پر بہت کم کارگر ہوتا ہے۔کیونکہ اس میں بدی کو بدی سمجھنے کی اہلیت پیدا ہو جاتی ہے۔آدمی کی ایسی حالت کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّھُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ھُمْ مُّبْصِرُوْنَ۔(الاعراف :۲۰۲)کبھی کبھی ایسے لوگوں کو شیطان اپنی طرف بھی کھینچتا ہے مگر وہ جھٹ ہوش میں آجاتے ہیں یہ ایسا انسانی درجہ ہے جس کے ساتھ نسیان لگا ہوا ہے اور دوسرے لفظوں میں اسے نفسِ لوّامہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ایسے لوگوں کے متعلق اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کبھی ان پر شیطان حملہ کرتا ہے تو وہ فوراً اﷲ کی پناہ میں آجاتے ہیں اور یہی متقیوں کا کام ہے۔پانچواں درجہ :پھر انسان اور ترقی کرتا ہے اور ترقی کرتا کرتا ملک بن جاتا ہے پھر وہ ایسا ہوشیار ہو جاتا ہے کہ کبھی بھی شیطان اس پر غالب نہیں آسکتا۔اس کی معرفت الٰہی ایسی ترقی کر جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے تمام احکام پر وہ عمل کرتا ہے اور جس طرح ملائکہ یفعلون