انوارالعلوم (جلد 2) — Page 250
۲۵۰ انسان کی روحانی ترقی کے مدارج : اﷲ تعالیٰ نے انسانی روح کی ترقی کے سات مدارج قائم کئے ہیں۔ان درجوں میں جو تفاوت اور کمی ہوتی ہے وہ انسان کی عادت کے لحاظ سے ہوتی ہے۔قرآن شریف میں اﷲ تعالیٰ نماز کے متعلق فرماتا ہے لَا تَقْرَبُو الصَّلٰوۃَ وَ اَنْتُمْ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَاتَقُوْلُوْنَ۔(النساء :۴۴)کہ نماز کے قریب بھی مت جاؤ۔جب تم نشے میں ہو۔اب نشہ کے معنی یہی نہیں کہ شراب ہی سے کوئی مخمور ہو۔شراب اس وقت بھی منع ہو گیا تھا اور اب بھی ہے تو جب اس کا پینا ہی منع ہے تو اس حکم کے کیا معنے ہوئے کہ کوئی پی کر مسجد میں نماز کے لئے نہ آئے۔بے شک شرابی کے لئے بھی یہ حکم ہے کہ اگر تم شراب پیتے ہو تو ہماری مسجد میں نہ آیاکرو۔اور یہ اسی طرح کا حکم ہے جس طرح ایک باپ اپنے نالائق بیٹے کو کہے کہ تم میں جب تک فلاں بری عادت ہے ہمارے گھر نہ آیا کرو۔اسی طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ شرابی ہماری مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہ آیا کرے۔لیکن اس کے اورمعنے بھی ہیں اور وہ یہ کہ جس طرح نشہ والا نہیں جانتا کہ میں کیا کر رہا ہوں اور کیا پڑھ رہا ہوں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اسی طرح تم عادت یا نشہ کے طور پر نماز نہ پڑھا کرو۔اور تمہاری نماز نقل کے طور پر دوسروں کی دیکھا دیکھی نہ ہو بلکہ تم ہوش و خرد سے پڑھا کرو۔تو عادت اور صرف نقل کے طور پر کوئی ایسا کام کرنا جس کی اصل غرض سے ناواقفیت ہو وہ بھی سکر ہی ہے۔سکر کے اصل معنی تو شراب کے نشہ کے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی کلام کے کئی بطن ہوتے ہیں۔پس ایک طرف تو اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ شراب پینے والا نماز کے قریب بھی نہ جائے اور دوسری طرف یہ بتایا ہے کہ عادت کے طور پر اور اصل غرض اور غایت سے ناواقف رہ کر نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔کیونکہ جس طرح ایک شرابی کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ایک غلیظ اور گندی نالی میں گرا ہوا ہے یا بڑے مکلف فرش پر بیٹھا ہوا ہے اسی طرح نماز کو عادت کے طور پر پڑھنے والا نہیں سمجھتا کہ وہ ایک عظیم الشان دربارمیں کھڑا ہے یا کسی جنگل میں ہے۔اسی لئے اس طرح نماز پڑھنے سے خدا تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔اب میں بتاتا ہوں کہ قرآن شریف نے کس طرح روحانیت کے سات مدارج بتائے ہیں۔ان مدارج میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح انسان ان کو چھوڑ کر تنزل کے گڑھے میں گرتا ہے۔اور کس طرح ان کو طے کرنے کی وجہ سے اوپر ترقی کرتا جا تا ہے اور جتنی جتنی اسے سمجھ آتی جاتی ہے اتنے ہی زیادہ اسے نیک نتائج اور اپنے اعمال کا بدلہ ملتا جاتا ہے۔