انوارالعلوم (جلد 2) — Page 249
۲۴۹ دیئے۔اور ان کے تبادلہ میں اور لینے لگے ایک کے سر میں درد تھا اس نے وہ سر پھینک دیا اور اس کی بجائے ایک بیمار موٹا پاؤں لے لیا۔ایک بہرہ تھا اس نے وہ کان پھینک کر اندھا ہونا پسند کیا۔اسی طرح ہر ایک نے اپنی تکلیف کو دوسری اس تکلیف کے جو اس کے خیال میں کم تھی بدل لیا۔جب اپنے اپنے گھروں کو چلے تو جس نے موٹا پاؤں لیا تھا وہ اس کو کھینچتا ہے لیکن وہ اٹھتا نہیں۔وہ جس نے بہرہ پن کی بجائے اندھا پن لیا تھا وہ کہتا ہے کہ کان نہ سنتے تھے تو کیا تھا اب تو کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔پھر انہوں نے اپنی پہلی تکلیفوں کو ہی ہلکا سمجھا اور انہیں کے لینے کی خواہش کی۔تو جس بات کی عادت ہو جائے اس کی تکلیف کم ہو جاتی ہے خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ جب دوزخیوں کی جلدیں پک جائیں گی تو ہم ان کی جلدیں بدل دیں گے تا کہ وہ عذاب کو محسوس کرتے رہیں۔جو لوگ عادتاً نیکی کا کوئی کام کرتے ہیں ان کو کوئی اجر نہیں مل سکتا۔اسی لئے کسی کو جو عذاب ہوتا ہے جب اس کو اس کی عادت ہوجاتی ہے تو اس کی تکلیف بھی کم ہو جاتی ہے گویا عادت ایک پٹی ہے جو کسی زخم کو ڈھانپ لیتی ہے حالانکہ اس کے اند ر گند ہوتاہے۔تم خوب یاد رکھو کہ عادت کی نماز نماز نہیں ہوتی۔عادت کی زکوٰۃ زکوٰۃ نہیں ہوتی۔عادت کا روزہ روزہ نہیں ہوتا اور عادت کا حج حج نہیں ہوتا۔کیا مسیح موعودؑ سے پہلے لوگ نمازیں نہیں پڑھا کرتے تھے۔زکوٰۃ نہیں دیا کرتے تھے روزہ نہیں رکھا کرتے تھے۔حج نہیں کیا کرتے تھے۔سب کچھ تھا مگر ان کی نیتیں نہ تھیں ریاء تھا اس لئے انہیں کچھ فائدہ نہ ہوتاتھا لیکن تمہارے سب کاموں میں ایک ہی چیز مد نظر ہونی چاہئے اور وہ اﷲ ہے۔اگر تم اس بات پر عمل کرو گے تو تم روحانیت میں فوری تبدیلی دیکھو گے پس تم کسی بات کو عادت کے طور پر نہ کرو بلکہ نیت سے کرو۔اسلام کیا چاہتا ہے :اسلام یہی چاہتا ہے کہ وہ عادت کو مٹائے اور یہی اس کا بڑا کام ہے۔اسلام عادت کا دشمن ہے کیونکہ عادت کی وجہ سے کوئی نیکی نیکی نہیں رہ سکتی۔اسلام کہتا ہے کہ جو کام انسان کرے رضائے الٰہی کے لئے کرے۔تب جو چیز وہ چاہتا ہے اس کو مل جاتی ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کُلاًّ نُّمِدُّ ھٰٓو ءُ لَآءِ وَھٰٓو ءُ لَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّکَ وَمَا کَانَ عَطَآءُ رَبِّکَ مَحْظُوْراً۔(بنی اسرائیل :۲۱)ہم تو ہر ایک کو مدد دیتے ہیں۔جو دنیاکے لئے کوشش کرتا ہے اس کو دنیا مل جاتی ہے اور جو اﷲ کے لئے سعی کرتا ہے اسے اﷲ مل جاتا ہے۔اور یہ خدا تعالیٰ کی اپنی بخشش ہے اور تیرے رب کی بخشش کسی سے بند نہیں کی گئی۔پس تم اﷲ کے لئے کوشش کرو۔تمہیں اﷲ ضرور مل جائے گا۔