انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 247

۲۴۷ شروع سے ہی اس کے کانوں میں اسلام کا سچا ہونا ہی پڑتا رہا ہے اور وہ ایم اے اس لئے نہیں سمجھتا کہ ابتداء سے اس کے کانوں نے اور باتوں کو سنا ہے اور وہی اس پر اثر رکھتی ہیں۔اب وہ ان کے خلاف نہیں سن سکتا۔ایک عیسائی سے میری گفتگو ہوئی وہ کہنے لگا کہ کفارہ کے متعلق میں نے بڑی تحقیقات کی ہوئی ہیں آپ اس کے متعلق گفتگو کریں میں نے اسی کی نسبت باتیں شروع کیں۔تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ یہ مان گیا کہ واقعی کفارہ خلاف عقل اور خلاف نیچر ہے۔اب میں اسے صرف اس لئے مانتا ہوں کہ عیسائیوں کے گھر پید ا ہوا ہوں۔پس بہت سے دینی کام ایسے ہوتے ہیں جو عادتاً کئے جاتے ہیں۔حنفی مسلمان عموماً کھانا کھانے کے بعد ہاتھ اٹھا کر کچھ پڑھتے ہیں۔اگر اﷲ تعالیٰ کی نعمت کا شکر یہ ادا کیا جائے تو بہت اچھی بات ہے لیکن ان میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جنہیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کیوں ہم ایسا کرتے ہیں۔بھلا ایسے لوگوں کو اس طرح ہاتھ اٹھانے سے وہ ثواب مل سکتا ہے جو شکریہ کی نیت سے ہاتھ اٹھانے والے کو ملتا ہے۔ہرگز نہیں۔کیونکہ ثواب تو سچے دل سے الحمد ﷲ کہنے سے ہوتا ہے۔لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں ‘روزے رکھتے ہیں ‘زکوٰۃ دیتے ہیں ‘حج کرتے ہیں۔لیکن ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔میں کہتا ہوں تم تو اپنی عادت پوری کرتے ہو پھر خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ تمہیں ان سے فائدہ پہنچائے۔پس تم یہ باتیں سن کر یہ نہ خیال کرنا کہ یہ چھوٹا سالڈو ہے جو ہمارے سامنے رکھا گیا ہے کیونکہ گو کام ایک ہی ہوتا ہے مگر نیتوں اور ارادوں کے فرق سے نتائج میں فرق ہو جاتا ہے۔اگر تم یہ اہمیت سمجھ لو اور یہ معلوم کر لو کہ کس طرح انسان ایک کام کرتا ہے لیکن ایک نیت سے اسے اور اجر ملتا ہے اور دوسری نیت سے اور۔تو تم کامیاب ہو سکتے ہو۔دیکھو مدینہ میں ایک وہ لوگ آئے تھے جو خدا تعالیٰ کے لئے آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہجرت کر کے آئے تھے گو اور لوگ بھی تو وہاں کاروبار کے لئے باہر سے آتے ہی ہوں گے۔کیا ان کو بھی کوئی ثواب مل سکتا ہے ؟نہیں۔ثواب کے مستحق تو وہی تھے جو خدا تعالیٰ کے لئے آئے تھے۔کیونکہ مدینہ میں آنا کوئی ہستی نہیں رکھتا۔صرف نیت کا اجر ہوتا ہے۔نماز کا ثواب بھی اسی لئے ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے خوش کرنے اور اس کی رضا چاہنے کے لئے پڑھی جاتی ہے۔روزہ بھی خدا تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے رکھا جاتا ہے زکوٰۃ کی بھی یہی غرض ہے۔حج بھی اسی لئے کیا جاتا ہے۔لیکن اب جبکہ لوگ ان باتوں کو عادت کے طور پر کرتے ہیں تو انہیں فائدہ کیونکر ہو۔بعض آدمیوں کو ہاتھ یا کندھا ہلانے کی عادت ہوتی ہے بعض عادتاً اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ