انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 232

۲۳۲ ہے کہ وہ بات نہ حضرت مسیح موعود ؑ نے بتائی اور نہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے بیان کی۔میں ایسا خیال کرنے والوں کو بتاتا ہوں کہ کسی چیز کی عظمت اس کے بار بار سننے سے کم نہیں ہو جاتی۔میں کوئی ایسی بات نکال کر نہیں لایا جو پہلے دنیا میں کسی کو معلوم نہ ہو۔بات تو وہی ہے جومیرے بیان کرنے سے پہلے آپ لوگوں نے کئی دفعہ سنی ہے مگر جب تک اس پر پورا پورا عملدرآمد نہ ہوجائے اور وہ اچھی طرح قائم نہ ہوجائے اس وقت تک اس کے بیان کرنے کی ضرورت مٹ نہیں سکتی۔دیکھو کونین تپ کے لئے مفید ہے اور روزانہ سینکڑوں تپ کے مریضوں کو دی جاتی ہے مگر جب تک دنیا میں تپ قائم ہے کونین کی بھی ضرورت قائم ہے۔اسی طرح پانی ہر ایک جاندار کی زندگی کے لئے ضروری چیز ہے اگر کوئی کسی سے پوچھے کہ مجھے زندگی کے قیام کے لئے جو ضروری چیزیں ہیں وہ بتاؤ اور وہ ان اشیاء میں سے ایک پانی بھی بتائے۔تو پانی کا نام سن کر اگر وہ کہے کہ یہ تو ہم روز پیتے ہیں یہ کون سی ایسی ضروری چیز ہے تو یہ غلط ہوگا کیونکہ جب تک زندگی کا مدار پانی پر ہے اس وقت تک پانی ایک ضروری شئے ہے اور گو انسان دن میں اسے کئی دفعہ پیتاہو پھر بھی اس کی ضرورت میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ہوا کے لئے کوئی قیمت نہیں دینی پڑتی وہ خود بخود سانس کے ذریعہ سے اندر چلی جاتی ہے اور ہمیشہ سے یہی سلسلہ چلا آتا ہے مگر اس طرح اس کی ضرورت اور اہمیت میں کوئی فرق نہیں آتا اور وہ آج بھی ویسی ہی مفید اور ضروری ہے جیسی کسی پہلے زمانہ میں تھی۔پس گو آپ لوگوں نے وہ بات جو میں بیان کروں گا پیشتر ازیں بھی سنی ہے مگر جب تک دنیا میں وہ بات قائم نہ ہوجائے اور تمام لوگ اس پر عمل کرنا نہ شروع کر دیں اس وقت تک ہم اسے سنائے ہی جائیں گے۔اور اس کی عظمت ہمیشہ ایک سی ہی رہے گی۔اب میں وہ بات بیان کرتا ہوں کوئی دوست لکھ لیں تا کہ ان لوگوں کے لئے جو یہاں نہیں آئے محفوظ رہے۔اور کسی کے فائدہ کا موجب ہو جائے۔مگر میں پھر تاکید کرتا ہوں کہ اس بات کو معمولی مت سمجھنا وہ در حقیقت ایک بہت بڑی بات ہے بہت سے انسانوں کی تباہی کا باعث یہ امر بھی ہو جاتا ہے کہ وہ اہم امور کی اہمیت کو نہیں سمجھتے اور اس طرح اپنے آپ کو تباہ کر دیتے ہیں لیکن دانا انسان وہ ہے جو ہرامر پر غور کرے اور گو وہ بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہو اس کے انجام پرغور کرے اور اس کی اصلیت پر نظر ڈالے میں اس امر کو واضح کرنے کے لئے ایک مثال بتاتا ہوں۔کہتے ہیں کوئی شخص تھا اس نے اپنے بھتیجوں سے کہا کہ ہم تمہیں کل کھانے کے بعد ایک ایسا لڈو کھلائیں گے جو کئی لاکھ آدمیوں نے بنایا ہے وہ یہ سن کر حیران رہ گئے اور سوچا کہ وہ لڈو جو