انوارالعلوم (جلد 2) — Page 208
خبر ہم خود لیں گے۔چنانچہ ایک دوسری جگہ آنحضرت ﷺ کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’ لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْ ا مُؤْمِنِیْنَ۔‘‘(الشعراء :۴)یعنی کیا تو اس غم میں کہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہوتے اپنے آپ کو ہلاک کرے گا۔آنحضرت ﷺ کو جو نعمت دی گئی تھی وہ تمام دنیا کو دینا چاہتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ تمام دنیا اسے قبول کرے۔اﷲ تعالیٰ انہیں فرماتا ہے کہ اگر لو گ گمراہ ہیں تو تم کیوں غمگین ہوتے ہو تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ مومنوں کو پہنچاؤ۔ان کفار کے لئے بھی ایک وقت آجائے گا جبکہ انہیں اپنے کئے کا پھل مل جائے گا۔یہ توآنحضرت ﷺ کی شان کے مطابق اس کے معنی ہوئے ہیں۔ہماری نسبت سے یہ معنے ہیں کہ اے مسلمانو! ہم نے تم پر بڑے بڑے انعام نازل کئے ہیں اگر تم دنیا میں کسی کے پاس مال و دولت دیکھو تو یہ نہ کہو کہ وہ حاصل کر لیں۔ان کو دیکھ کر تمہاری آنکھیں کھلی کی کھلی نہ رہ جائیں بلکہ تم پر جو کچھ تمہارے خدا نے نازل کیا ہے یہ بہت بڑا انعام ہے اور اس کو خدا کا فضل سمجھو اور جو کچھ دنیا داروں کو ملا ہے اس کی طرف نظر نہ کرو۔پس تم لوگ بھی دنیا کو دنیا داروں کے لئے چھوڑ دو۔خدا تعالیٰ نے تمہیں اپنے دربار میں بلایا ہے اس لئے تمہیں کسی اور جگہ نہ جانا چاہئے۔ہاں دنیا میں اتنا کماؤ جو تمہارے لئے ضروری ہو کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔باقی جہاں تک ہو سکے اپنے وقت کو دین کی خدمت میں صرف کرو اور ایسے لوگوں سے الگ رہو جن سے مل کر تمہاری خصوصیات مٹتی ہوں اور نہ ایسے کاموں میں پڑو جن کے لئے تمہیں اپنے عقائد میں تبدیلی پیدا کرنی پڑے۔یہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے صرف جماعت احمدیہ کی ضروریات کے مطابق اور صرف دینی نقطۂ خیال سے ہے۔باقی رہا یہ کہ دوسرے لوگوں کو کون سارو یّہ اختیار کرنا چاہئے یا جبکہ سیاست میں مشغول ہونے میں کچھ حرج نہ ہوتو کس حد تک اور کن قواعد کے ماتحت ہم سیاسی معاملات میں حصہ لے سکتے ہیں۔یہ ایک الگ مضمون ہے اس وقت اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں اس وقت صرف اسی قدر کہنا کافی ہے کہ اسلام کی موجودہ ضروریات چاہتی ہیں کہ ہماری جماعت سیاسی معاملات سے ایسی الگ رہے کہ جس حد تک گورنمنٹ اپنی رعایا کو سیاسی معاملات میں دلچسپی رکھنے کی اجازت بھی دیتی ہے وہ سیاست میں اس قدر بھی دخل نہ دے بلکہ خدا تعالیٰ کے سپرد کردہ کام کے پورا کرنے میں اپنا کل وقت خرچ کرے اور اپنی توجہ کو بٹنے نہ دے اور نہ سیاست میں پڑ کر اپنی خصوصیات کو ضائع کرے۔