انوارالعلوم (جلد 2) — Page 196
۱۹۶ جوئے اور شراب کی نسبت اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِؕ-قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ٘-وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَاؕ (البقره ۲۲۰) شراب کے متعلق لوگ تم سے سوال کرتے ہیں اور تم سے پوچھتے ہیں کہ یہ جائز ہے یا حرام اورجوئے کے متعلق بھی پوچھتے ہیں۔فرمایا ان کو اس کا یہ جواب دے دو( اسلام کیاہی پاک مذہب ہے کہ کسی کی نیکی اور اچھی صفت کو ضائع نہیں کرتا۔کیاہی عمدہ اور پاک جواب دیا )کہ ان میں کچھ بد یاں اور کچھ فوائد بھی۔لیکن بد یاں فوائد کی نسبت زیادہ ہیں۔یہ کیاہی لطیف جواب دیا ہے۔ان کے سوال پر انہیں منع نہیں کیا گیا کہ تم شراب نہ یپو - اورجوانہ کھیلو۔بلکہ یہ فرما دیا ہے کہ ان میں منافع تھوڑے ہیں اور نقصان زیاد ہ- اب تم آپ ہی سمجھ لو کہ تمہیں کیا کرنا ہوا ہے تو خداتعالی ٰنے ہمارے لئے یہ قاعدہ کلیہ بیان فرما دیا کہ ہر ایک چیز میں دو باتیں ہوتی ہیں یعنی نفع اور نقصان۔پس اگر کسی چیز میں نفع زیادہ ہو۔اور نقصان تھوڑا۔تو اس کو کر لیا کرو۔اور اگر کسی چیز میں نقصان زیادہ ہو اور نفع تھوڑا تو اس کو اختیار نہ کیا کرو ، دنیا کا تمام کارخانه اسی قاعده پر چل رہا ہے۔ہر ایک انسان جس چیز میں نفع زیادہ دیکھتا ہے اس کو اختیا کر لیتا ہے اور جس میں نقصان زیادہ دیکھتا ہے اس کو چھوڑ دیتا ہے۔اسی قاعدہ کے مطابق سیاست کو دیکھو۔سیاست بالذات کوئی بری چیز نہیں ہے مگر ہم کہتےہیں کہ ایک ہی چیز ایک وقت میں حلال ہوتی ہے تو وہی دوسرے وقت میں حرام ہو جاتی ہے۔مثلاًنماز ایک ایسی چیز ہے جس سے کہ قربِ الہٰی حاصل ہوتا ہے مگر ایک وقت یہی نماز پڑھنے والا شیطان ہو جاتا ہے یعنی سورج کے چڑھنے یا ڈوبنے کے وقت نماز پڑھنے والا بجاۓ قرب الہٰی حاصل کرنےکے شیطان بن جاتا ہے۔اسی طرح روزہ کے متعلق خدا تعالی ٰفرماتا ہے کہ روزہ رکھنے والے کا میں الله ) ہی اجر ہوں مگر آنحضرت اﷺفرماتے ہیں کہ عید کے دن جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ شیطان ہیں۔پس گو روزہ رکھنا ایک نہایت اعلےٰ عبادت تھی لیکن رسول کریم ﷺنے عید کےدن روزہ رکھنے کو شیطانی فعل قرار دیا جس سے معلوم ہوا کہ ایک چیز ایک وقت میں اچھی ہوتی ہےتو دوسرے وقت وہی بری ہو جاتی ہے۔مثلا ًایک شخص کی پیٹھ میں درد ہو رہا ہو اور وہ کسی کو کہے کہ میری پیٹھ پر مکیاں مارو۔میں تمہیں انعام دوں گا تو اس طرح مکیاں مارنے پر اس شخص کو انعام ملے گا۔لیکن اگر کو ئی مجلس میں بیٹھے باتیں کر رہا ہو اور اس کا نوکر پیچھے سے آکر اس کی پیٹھ پر مکیاں مارنی شروع کردے تو جانتے ہو کہ اس سے کیا سلوک کیا جائے گا۔اس کو سزا دی جائے گی کیونکہ موقع کے مطابق ہر ایک بات ہوتی ہے۔