انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 183

۱۸۳ نہیں اور جب تک اس بات کا ثبوت نہ ملے تو اس رؤیا کی کوئی قدرومنزلت نہیں ہو سکتی اور اس کا کہنا بالکل بجا ہوگا اس لئے میں اپنی صداقت کے لئے گواہ کے طور پر خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیش کرتا ہوں۔شاید بعض لوگوں کو تعجب ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو فوت ہو چکے ہیں آپ کیونکر اس دنیا میں واپس آ کر میری صداقت کی گواہی دے سکتے ہیں تو میں ان کو بتاتا ہوں کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی وہ اس بات کی شہادت دے دیں گے کہ واقعہ میں ۸؍ مارچ کو میں نے یہ رؤیا دیکھی تھی اور وہ اس طرح کہ جس رات کو میں نے یہ رؤیا دیکھی اُسی صبح کو حضرت والد ماجد کو سنایا۔آپ سن کر نہایت متفکر ہوئے اور فرمایا کہ مسجد سے مراد تو جماعت ہوتی ہے شاید میری جماعت کے کچھ لوگ میری مخالفت کریں یہ رؤیا مجھے لکھوا دے۔چنانچہ میں لکھواتا گیا اور آپ اپنی الہاموں کی کاپی میں لکھتے گئے۔پہلے تاریخ لکھی پھر یہ لکھا کہ محمود کی رؤیا، پھر تینوں رؤیا لکھیں۔ان تینوں رؤیا کے اِردگرد اس سے پہلی اور پچھلی تاریخوں کے الہام حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے موجود ہیں۔(کاپی لوگوں کو دکھائی گئی) اور یہ کاپی اب تک میرے پاس ہے اور ہر ایک طالبِ حق کو دکھائی جا سکتی ہے جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستخط پہچانتے ہیں وہ گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ سب کاپی حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے اور کئی سال کے الہام اس میں درج ہیں اور یہ میری رؤیا بھی آپ ہی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی اس میں موجود ہے۔یہ ایک ایسی شہادت ہے کہ کوئی احمدی اس کا انکار نہیں کر سکتا کیونکہ ایسے کھلے کھلے نشان کا جو شخص انکار کرے گا اسے ہر ایک صداقت کا انکار کرنا پڑے گا۔اس رؤیا کے معلوم کر لینے کے بعد ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ کیوں مجھے خلافت کے مسئلہ میں اس قدر یقین اور تسلی ہے اور کیوں میں ہر ایک مقابلہ کی پرواہ نہ کرکے فتنہ کے وقت خلافت کامُمِد و معاون رہا ہوں۔میں اس شک کو بھی دور کر دینا چاہتا ہوں کہ کیوں اس رؤیا کو شیطانی نہ خیال کیا جائے اور وہ اس طرح کہ اوّل تو اس رؤیا کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قدر کی نگاہوں سے دیکھا اور لکھ لیا اور اپنے الہاموں کی کاپی میں لکھا۔پھر یہ رؤیا دو سال بعد حرف بہ حرف پوری ہوئی اور جو رؤیا اس شان کے ساتھ پوری ہو وہ شیطانی نہیں ہو سکتی کیونکہ پھر شیطان اور رحمن کے کلام میں کیا فرق رہ جائے گا؟ اور کیوں نہ لوگ ہر ایک الہام کو شیطانی کہہ دیں گے۔