انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 167

۱۶۷ جائے گا۔پھر میں نے کہا یہ بحث نہیں ہونی چاہئے کہ خلیفہ ہو یا نہ ہو بلکہ اس بات پر بحث ہو سکتی ہے کہ کون خلیفہ ہو۔اُس وقت پھر میں نے یہ کہا کہ آپ اپنے میں سے کوئی آدمی پیش کریں میں اُس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں مگر میں یہ کبھی بھی نہیں مان سکتا کہ کوئی خلیفہ نہ ہو۔اگر تمام لوگ اس خیال کو چھوڑ دیں اور اس خیال کے صرف چند آدمی رہ جائیں تب بھی ہم کسی نہ کسی کی بیعت کر لیں گے اور ایک کو خلیفہ بنائیں گے مگر ہم یہ کبھی نہ مانیں گے کہ خلیفہ نہ ہو۔دوسرا آدمی خواہ کوئی ہو، غیر احمدیوں کو کافر کہے یا نہ کہے، ان کے پیچھے نماز جائز سمجھے یا نہ سمجھے ان سے تعلقات رکھے یا نہ رکھے ایک خلیفہ چاہئے تا کہ جماعت کا اتحاد قائم رہے اور ہم اس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہیں۔یہ گفتگو بیچ میں ہی رہی اور کوئی فیصلہ نہ ہوا اور تجویز ہوئی کہ اس پر مزید غور کے بعد پھر گفتگو ہو اور دوسرے دوست بھی شامل کئے جائیں۔دوسرے دن پانچ سات آدمی مشورہ کے لئے آئے اور اس بات پر بڑی بحث ہوئی کہ خلافت جائز ہے یا نہیں۔بڑی بحث مباحثہ کے بعد جب وقت تنگ ہو گیا تو میں نے کہا اب صرف ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ خلیفہ کی ضرورت سمجھتے ہیں وہ اپنا ایک خلیفہ بنا کراس کی بیعت کر لیں۔ہم ایسے لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے مشورہ پوچھتے ہیں۔آپ لوگ جو کہ خلیفہ ہونا ناجائز سمجھتے ہیں وہاں تشریف نہ لائیں تاکہ کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو۔اس کے بعد ہم یہاں (مسجد نور میں) آ گئے۔وہ لوگ بھی یہیں آپہنچے۔پھر جو خدا کو منظور تھا وہ ہوا۔اُس وقت جو لوگ میرے پاس بیٹھے تھے وہ خوب جانتے ہیں کہ اُس وقت میری کیا حالت تھی۔اگر میں نے پہلے سے کوئی منصوبہ سازی کی ہوتی تو چاہیے تھا کہ پہلے سے ہی میں نے بیعت کے الفاظ یاد کئے ہوتے لیکن اُس وقت ایک شخص مجھے بتلاتا گیا اور میں وہ الفاظ کہتا گیا۔کیا یہی منصوبہ باز کا حال ہوتا ہے؟ تیسرا اعتراض اور اُس کا جوابپھر کہتے ہیں کہ اُس وقت ایک شخص تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو اُس کو کہا گیا کہ بیٹھ جاؤ۔اس سے اس کی ہتک ہوئی ہے۔میں کہتا ہوں کہ اُس وقت اس کو اگر مار بھی پٹتی تو کوئی حرج نہ تھا کیونکہ یہی تو خلیفہ کی ضرورت تھی جس کا وہ انکار کرتا تھا۔اس نے دیکھ لیا کہ نورالدین خلیفۃ المسیح نے ہی اس کی