انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 166

۱۶۶ کہ وہ ایسا کریں۔تو جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی جماعت کو پطرس کے حوالہ کیا اسی طرح مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو ایک آدمی کے ماتحت رہنے کا حکم دیا اور جس طرح حضرت عیسیٰ ؑنے اپنے حواریوں کو تبلیغ کا حکم دیا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کے لوگوں کو اپنے نام پر بیعت لینے کا حکم دیا۔اس کے بعد میں کچھ واقعات بیان کرتا ہوں جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں وہ غور سے سنیں اور جو نہیں بیٹھے ہوئے انہیں پہنچا دیں۔جب حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سخت بیمار ہوگئے تو میں نے اپنے اختلاف پر غور کیا اور بہت غور کیا۔جب میں نے یہ دیکھا کہ جماعت کا ایک حصہ عقائد میں ہم سے خلاف ہے تو میں نے کہا کہ یہ لوگ ہماری بات تو نہیں مانیں گے آؤ ہم ہی ان کی مان لیتے ہیں۔میں نے بہت غور کر کے ایک شخص کی نسبت خیال کیا کہ اگر کوئی جھگڑا پیدا ہوا تو پہلے میں اس کی بیعت کر لوں گا پھر میرے ساتھ جو ہوں گے وہ بھی کر لیں گے اور اس طرح جماعت میں اتحاد اور اتفاق قائم رہ سکے گا۔حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے دن پچھلے پہر وہ شخص مجھے ملا اور میرے ساتھ سیر کو چل پڑا اور اُس نے مجھے کہا کہ ابھی خلیفہ کی بحث نہ کی جائے جب باہر سے سب لوگ آ جائیں گے تو اس مسئلہ کو طَے کر لیا جائے گا۔میں نے کہا دو دن تک لوگ آ جائیں گے اس وقت اس بات کا فیصلہ ہو جائے۔اس نے کہا نہیں سات آٹھ ماہ تک یونہی کام چلے پھر دیکھا جائے گا اتنی جلدی کی ضرورت ہی کیا ہے۔میں نے کہا کہ اگر اس معاملہ میں میری رائے پوچھتے ہو تو میں تو یہی کہوں گا کہ خلافت کا مسئلہ نہایت ضروری ہے اور جس قدر بھی جلدی ممکن ہو سکے اس کا تصفیہ ہو جانا چاہیے۔میں نے کہا کہ کیا آپ کوئی ایسا خاص کام بتا سکتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ میں اگر آپ خلیفہ نہ ہوتے تو وہ رُک جاتا اور جس کی وجہ سے فوراً ان کو خلیفہ بنانے کی حاجت پڑی۔اگر اُس وقت کوئی ایسا خاص کام نہ ہوتے ہوئے پھر بھی ان کی ضرورت تھی تو اب بھی ہر وقت ایک خلیفہ کی ضرورت ہے۔خلیفہ کا تو یہ کام ہوتا ہے کہ جماعت میں جب کوئی نقص پیدا ہو جائے تو وہ اُسے دور کر دے نہ کہ وہ مشین ہوتی ہے جو ہر وقت کام ہی کرتی رہتی ہے۔آپ کو کیا معلوم ہے کہ آج ہی جماعت میں کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے تو پھر کون اس کا فیصلہ کرے گا۔میں نے کہا کہ ہماری طرف سے خلافت کے متعلق کوئی جھگڑا نہیں پیدا ہو سکتا آپ کوئی آدمی پیش کریں میں اس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔کچھ اور لوگوں کو بھی مجھ سے محبت ہے وہ بھی اس کی بیعت کر لیں گے اور کچھ لوگ آپ سے تعلق رکھنے والے ہیں وہ بھی بیعت کر لیں گے اس طرح یہ معاملہ طَے ہو