انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 161

۱۶۱ نے کیوں نہ اپنی بات چھوڑ دی؟ اور اتحاد قائم رکھا اس لئے آج میں اس بات کو بیان کروں گا جس نے مجھے مضبوط رکھا لیکن اس سے پہلے میں چند اور باتیں بیان کرتا ہوں۔پہلا اعتراض اور اس کا جوابایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خلیفہ وہ ہوتا ہے جو بادشاہ ہو یا مأمور۔تم کون ہو؟ بادشاہ ہو؟میں کہتا ہوں۔نہیں۔مأمور ہو؟ میں کہتا ہوں نہیں۔پھر تم خلیفہ کس طرح ہو سکتے ہو خلیفہ کے لئے بادشاہ یا مأمور ہونا شرط ہے۔یہ اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر ذرا بھی تدبر نہیں کیا۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک شخص درزی کی دکان پر جائے اور دیکھے کہ ایک لڑکا اپنے استاد کو کہتا ہے ’’خلیفہ جی‘‘۔وہ وہاں سے آ کر لوگوں کو کہنا شروع کر دے کہ خلیفہ تو درزی کو کہتے ہیں اور کوئی شخص جو درزی کا کام نہیں کرتا وہ خلیفہ کس طرح ہو سکتا ہے۔اسی طرح ایک شخص مدرسہ میں جائے (پہلے زمانہ میں مانیٹر کو خلیفہ کہتے تھے) اور لڑکوں کو ایک لڑکے کو خلیفہ کہتے سنے اور باہر آ کر کہہ دے کہ خلیفہ تو اُسے کہتے ہیں جو لڑکوں کا مانیٹر ہوتا ہے۔اس لئے وہ شخص جو لڑکوںکا مانیٹر نہیں وہ خلیفہ نہیں ہو سکتا خلیفہ کے لئے تو لڑکوں کا ہونا شرـط ہے۔اسی طرح ایک شخص دیکھے کہ آدم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا اور اُن کے لئے فرشتوں کو حکم دیا کہ سجدہ کرو۔وہ کہے کہ خلیفہ تو وہی ہو سکتا ہے جس کو سجدہ کرنے کا حکم فرشتوں کو ملے ورنہ نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ایک اور شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کو دیکھے جن کے پاس سلطنت اور حکومت تھی تو کہے کہ خلیفہ تو اس کو کہتے ہیں جس کے پاس سلطنت ہو اس کے سوا اور کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا کیونکہ خلیفہ کے لئے سلطنت کا ہونا شرط ہے۔لیکن ایسا کہنے والے اتنا نہیں سمجھتے کہ خلیفہ کے لفظ کے معنی کیا ہیں۔اس کے یہ معنی ہیں کہ جس کا کوئی خلیفہ کہلائے اس کا کام وہ کرنے والا ہو۔اگر کوئی درزی کا کام کرتا ہے تو وہی کام کرنے والا اس کا خلیفہ ہے اور اگر کوئی طالب علم کسی استاد کی غیر حاضری میں اس کا کام کرتا ہے تو وہ اس کا خلیفہ ہے۔اسی طرح اگر کوئی کسی نبی کا کام کرتا ہے تو وہ اس نبی کا خلیفہ ہے۔اگر خدا نے نبی کو بادشاہت اور حکومت دی ہے تو خلیفہ کے پاس بھی بادشاہت ہونی چاہیے اور خدا خلیفہ کو ضرور حکومت دے گا۔اور اگر نبی کے پاس ہی حکومت نہ ہو تو خلیفہ کہاں سے لائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ خدا تعالیٰ نے دونوں چیزیں یعنی روحانی اور جسمانی حکومتیں دی تھیں اس لئے ان کے خلیفہ کے