انوارالعلوم (جلد 2) — Page 152
۱۵۲ ہےاس لئے کہ وہ اسلام اور رسول خدا کیمحبت کے مدعی ہیں۔اور اگر وہ سچی توبہ نہ کریں تو سزا سر پر کھڑی ہے۔(الھدیٰ صفحہ ۵۶ روحانی خزائن جلد ۸ اصفحہ ۳۰۰) ان تحریروں سے یہ باتیں صاف ظاہر ہیں کہ حضرت مسیح موعود سلطان کے ادعائے خلافت کوغلط قرار دیتے ہیں اس کی حکومت سے انگریزوں کی حکومت کو ترجیح دیتے ہیں۔ان کی سلطنت کےبدانجام کی خبر دیتے ہیں اور انگریزی حکومت کی مخالفت کو نہایت مکروہ اور گناہ قرار دیتے ہیں۔اورہر ایک احمدی کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احکام اور فیصلوں پر دل و جان سےکاربند ہو۔پس میں تمام جماعت کو اس اعلان کے ذریعہ سے اطلاع دیتا ہوں کہ اپنے امام کے حکم کے ماتحت ہر طرح سے گورنمنٹ برطانیہ کے خیر خواہ ہیں اور ہر ممکن طریق سے اس کی مدد واعانت کرتے رہیں اور اگر کسی جگہ کسی آدمی یا جماعت کے خیالات ان کو نادرست معلوم ہوں تو اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔اور اپنی جماعت کے علاوہ غیروں کو بھی سمجھاتے رہیں کہ گورنمنٹ برطانیہ کی فرمانبرداری ان کامذ ہبی فرض ہے۔پس چاہئے کہ اپنے ذاتی خیالات کومذہب پر قربان کردیں۔ماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ جس امن سے کم گو ر نمنٹ برطانیہ کے ماتحت زندگی بسر کر رہے ہیں ہرگز وہ امن ہم کو اور کسی سلطنت میں نہیں مل سکتا خواہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی۔خصوصاً اس زمانہ کی اسلامی کہلانے والی حکومتوں کے حلم اور بردباری کانظارہ ہم امیر کابل کے سلوک سے دیکھ چکے ہیں جس نے بلا وجہ ہمارے ایک بھائی کو نہایت بے دردی سے سنگسارکروا دیا۔آخر میں میں اپنی جماعت کو اس امر کی بھی تاکید کرتا ہوں کہ وہ آج کل دعاؤں اور آوو زاری پر بہت زور دیں اور اپنے نفس میں تبدیلی پیدا کریں اور اللہ تعالی کے آگے گر جائیں تا اسلام کی ترقی کی صورت نکلے اور اس کے زوال کے اسباب دور ہوں اور اسلام ایک دفعہ پھر اپنی اصلی شان میں دنیا کے چاروں کونوں میں پھیلنا شروع ہو اور شرک و بدعت کی جگہ توحید اور کی اطاعت کی ترتی ہو۔آمین ثم آمین - اخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين خاکسار میرزا محموداحمد خلیفہ دوم جماعت احمدیہ قادیان۔پنجاب ۹ نومبر ۱۹۱۴ء